میری شادی کو 10 ماہ ہوچکے ہیں اور یہ میری دوسری شادی ہے۔ پہلے شوہر سے میری ایک بیٹی ہے جسکے اور اپنےاخراجات پورے کرنے کے لئے میں جاب کرتی ہوں کیوں کہ میرا شوہر ابھی پڑھ رہا ہے اور ابھی میرا خرچہ اٹھانے کے قابل نہیں ہے اس کے اخراجات اسکے والد پورے کرتے ہیں اور میں اپنے اور اپنی بیٹی کے ہر طرح کے اخراجات خود پورے کرتی ہوں۔ان 10 ماہ کی مدت میں میرے اور میرے شوہر کے بیچ بہت مسئلے اور ناچاقیاں ہوئیں میرے شوہر کے ساتھ کچھ نفسیاتی مسئلہ ہے کبھی وہ بلکل جنونی ہوجاتا ہے اس نے 2 بار مجھ پر ہاتھ بھی اٹھایا اور غصے میں آکر میرا گلا دبانے کی کوشش بھی کی اور میری بیٹی کو جان سے مارنے اور اسکو بیلٹ سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں اور بہت الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے کہ میں تم سے اولاد پیدا نہیں کروں گا وغیرہ لیکن جب اس کیفیت سے باہر آتا ہے تو روتا ہے مجھ سے معافیاں مانگتا ہے اور ہر بار بڑے مجھے صبر کرنے کی تلقین کر کے ہمارے درمیان صلح کروادیتے ہیں۔ میرے شوہر اور اسکے والد مجھے دھمکانے کے لئے گھر سے نکل جانے کی دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور بات بات پر ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ابھی پچھلے ہفتے ہماری لڑائی ہوئی اور میرے شوہر نے بولا کے"ہم دونوں ساتھ نہیں رہ سکتے ہمارے مزاج نہیں مل رہے اور میں نےفیصلہ کرلیا ہے اور اس فیصلے کا اختیار صرف میرے پاس ہے اب بتائیں کہ اپنا فیصلہ ابھی سناؤں یا کچھ ماہ بعد ؟ جب میری پڑھائی مکمل ہوجائے پھر اپنا فیصلہ سناؤں ؟ جب تک میں حالات بھی دیکھ لوں گا"اسکے بعد ہمارے بیچ ناچاقی ہوئی اور میں اپنے والد کے گھر آئی ہوئی تھی تو میرے شوہر نے کچھ اس طرح کے میسج بھیجے "مجھے ہر دم ہر لمحے ساتھ نبھانے والی چاہیئے تھی شروع سے جو مجھ پر ڈیپینڈ کرے اور میں اس پر ،میں بہت بڑا گدھا ہو ں ہر وقت ساتھ رہنے اور نبھانے کی سوچتا ہوں ،اس بات پر غیرت جاگ گئی تھی جس کو دبائے بیٹھا تھا کہ جو میرے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی اس کے پیچھے کیوں پڑا رہوں،مجھے جو کرنا تھا میں نے کر دیا جزاک اللہ آج سے سارے شکوہ ختم آج سے سارے مسئلے ختم"اس سے پہلے بھی غصے میں ایک دو بار اس طرح بولا ہے کہ" اپنا سامان لو اور نکلو یہاں سے"اس نے باقاعدہ لفظ" طلاق" نہیں استعمال کیا لیکن اوپر لکھے گئے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ کیا ان الفاظ سے مجھے طلاق ہوگئی ہے؟اگر طلاق ہوگئی ہے تو عدت کی کیا شرائط ہوں گی؟میں شرعی پردہ کرتی ہوں تو عدت کی مدت میں کیا میں جاب کرسکتی ہوں ؟ کیونکہ اپنی بیٹی کے اخراجات میں ہی پورے کرتی ہوں ؟
نوٹ:بذریعہ فون شوہر سے بات کرکے یہ معلومات حاصل ہوئی کہ شوہر کی طلاق کی کوئی نیت نہیں تھی۔
سائلہ نے سوال میں اپنے شوہر کے جس میسج کا حوالہ دیا ہے اس میں طلاق کے الفاظ موجود نہیں ، لہذا سائلہ کے شوہر کی طرف سے سائلہ کو مذکور میسج بھیجنے کی وجہ سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ، اسی طرح سائلہ کے شوہر نے یہ جو الفاظ کہے"اپنا سامان لو اور نکلو یہاں سے"اس سے اگر شوہرکی نیت طلاق دینے کی نہ ہو تو اس سے بھی سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
کما فی الدر المختار :والکنایات ثلاث ما یحتمل الرد او ما یصلح للسب او لا ولا (فنحو اخرجی واذھبی وقومی)(الی قولہ)یحتمل ردا، الخ(ج3 ص 298)۔
وفی رد المحتار:والحاصل ان الاول یتوقف علی النیۃ فی حالۃ الرضا والغصب والمذاکرۃ والثانی فی حالۃ الرضا والغصب فقط الخ(ج 3 ص 301)۔