السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،محترم! مجھے آپ سے ایک سوال کا جواب پوچھنا ہے، میرا بیوی کے ساتھ ایک چھوٹا سا جھگڑا ہو گیا تھا، دراصل اس جھگڑے کی صورت میں اس نے مجھے بے دین کہہ کر پکارا اور میری وضاحت کرنے کے بعد اس نے پھر یہی جملہ دہرایا کہ ہاں آپ بے دین ہیں دراصل مجھے اسی مسئلے کے لئے آپ سے جواب درکار ہے کیا ہماری ازدواجی زندگی یا نکاح پر کوئی اثر پڑا ہے اس بات سے؟
سوال میں ذکر کردہ الفاظ سے سائل کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا، لہذا دونوں حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ بیوی کا بلا وجہ شوہر کو اس طرح کے نامناسب الفاظ کہنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الھندیۃ: رجل ضرب امرأۃ فقالت لست بمسلم (إلی قولہ) لا یصیر کافرا بذلاک (إلی قولہ) قالت امرأة لزوجها ليس لك حمية ولا دين الإسلام ترضى بخلوتي مع الأجانب، فقال الزوج: ليس لي حمية ولا دين الإسلام فقد قيل أنه يكفر اھ (کتاب السیر الباب التاسع ج 2 صـ 277 ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: ما كان في كونه كفرا اختلاف فإن قائله يؤمر بتجديد النكاح وبالتوبة والرجوع عن ذلك بطريق الاحتياط، وما كان خطأ من الألفاظ، ولا يوجب الكفر، فقائله مؤمن على حاله، ولا يؤمر بتجديد النكاح والرجوع عن ذلك كذا في المحيط اھ (کتاب السیر الباب التاسع ج 2 صـ 283 ط: ماجدیۃ)