ایک آدمی نے بیوی کو شرط لگا کر طلاق دی ہے کہ اگر تو اپنے والدین کے گھر گئی تو تجھے 3طلاقیں ہیں-
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام کہ اس عورت کو طلاق ہو گئی ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں شوہر نے اپنی بیوی کو جو الفاظ "اگر تو اپنے والدین کے گھر گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں "ان الفاظ سے تین طلاقیں معلق ہو چکی ہیں ، چنانچہ اس تعلیق کے بعداگر بیوی اپنے والدین کے گھر چلی جاتی ہے ،تو اس پر معلق تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائیگی جس کے بعد بغیر حلالۂ شرعیہ کے باہم عقد ِنکاح نہیں ہو سکے گا ۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة(فصل فی الحکم البائن ج3 ص187 ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ:واذا أضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاًمثل أن یقول کامرأتہ ان دخلت الدار فأنت طالق الخ (کتاب الطلاق الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ج1 ص488 ط:ماجدیہ)۔