میرا نام ارم اعظم ہے،میری شادی ہوئی تقریباً نو سال ہوگئے ہیں، شادی میری مرضی سے ہوئی تھی، لیکن شادی کے ٹھیک سات دن بعدمیرے خاوند نے لڑائی جھگڑےشروع کردیے اور مار کٹائی طلاق کی دھمکیاں دینا شروع کردیں ، بلکہ ایک بار مجھے دورانِ حمل کہا کہ "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" لیکن جب غصہ ٹھنڈا ہوا ، تو کہتا ہے کہ حمل میں تو طلاق واقع نھیں ہوتی ،ہم رجوع کرلیتے ہیں اور پھر کچھ عرصے بعد مجھے مار کر گھر سے نکال دیا اور کہا "میں تجھے رکھنا نہیں چاہتا ،میری طرف سےتوفارغ ہے" میں طلاق نامہ تیرے گھربھیج دونگا، پھر رشتہ داروں نے صلح کروادی ،میں سمجھی شاید ٹھیک ہوجائے، لیکن اسکے رویے بدستور اسی طرح ہیں ،دو ماہ سے گھر بھی نہیں آیا اوریہ الفاظ میں کئی بارسن چکی ہوں کہ "میں نے تجھے نہیں رکھنا،میری طرف سے تو فارغ ہے" البتہ میں نے سات آٹھ ماہ سے اس سےازدواجی تعلق ختم کیا ہوا ہے، یہ کہ کر کہ جب تک ہم کسی مفتی صاحب سےراہنمائی نہ لیں اس وقت تک میں مطمئن نہیں ہوں، تویہ بات سنکر اسنے دوبارہ کہا اگریہ بات ہے، تو آج کے بعد ہم غیرمحرم ہیں ،برائےمہربانی میری راہنمائی فرمائی جائے کہ ایسی صورت حال میں ہمارے نکاح کاکیا حکم ہے ؟آیا طلاق واقع ہوگئی یا نکاح میں کوئی فرق نہیں پڑا اور اگر طلاق ہوگئی ان الفاظ سے جو اسنےمجھے چارسال پہلے دورانِ حمل کہا تھا "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" تو عدت کب سے شروع ہوگی طلاق کی صورت میں؟ بینواتوجروا۔
واضح ہوکہ حالتِ حمل میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا سائلہ کے شوہر نے عرصئہ چار سال قبل سائلہ کو جو الفاظ کہے "میں تجھے طلاق دیتا ہوں" اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی، جس کے بعد دورانِ عدت رجوع کرنے سے رجوع بھی درست ہوچکا تھا، اور دونوں کے لئے میاں بیوی کی طرح رہنا جائز تھا، تاہم آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی تھا، جبکہ " فارغ" کے لفظ سے بھی عند القرینہ طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کا لفظ فارغ بولنے کے بعد طلاق نامہ گھر بھجوانے کا تذکرہ کرنا چونکہ اس بات پر قوی قرینہ ہے کہ اس نے فارغ سے طلاق ہی مراد لی ہے، اس لئے مذکور جملے " میری طرف سے فارغ ہے" سے سائلہ پر طلاقِ بائن واقع ہو گئی جوکہ پہلی طلاق کے ساتھ ملکر مجموعی طور پر دو بائن طلاقوں کے ذریعے سائلہ کا اپنے خاوند سے نکاح ختم ہوچکا تھا، چنانچہ اس کے بعد سائلہ اور اس کے شوہر کے لئے تجدیدِ نکاح کے بغیر ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا جائز نہیں تھا، جس پر دونوں کو بصدقِ دل توبہ و استغفار لازم ہے، اسکے بعد اگر سائلہ کے خاوند نے دورانِ عدت سائلہ کو صریح الفاظ (جیساکہ میں تجھے "طلاق دیتا ہو" یا چھوڑ دیا وغیرہ ) کے ساتھ طلاقیں نہیں دی ہے، تو مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، جبکہ سائلہ کا شوہر اگر طلاق دینے کا اقراری ہو تو میاں بیوی کا ایک دوسرے سے علیحدگی ہونے کے بعد سے عدت شروع ہو چکی ہے، چنانچہ عدت کے بعد سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کمافي الدر المختار: (وحل طلاقهن) اى فى الآيسة والصغيرة والحامل (عقب وطء)
لان الكراهة فيمن تحيض لتوهم الحبل وهو مفقود ههنا الخ (ج۳، ص ۲۳۲، ط: سعيد)۔
وفیہ ایضاً: وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب الخ ( باب الرجعة ، ج 3 ، ص 409 ، ط" سعيد )۔
وفی الہندیۃ: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام، والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية اھ (ج1،ص374، ط: ماجدیہ)۔
وفیہ ایضاً: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير۔ (ج1،ص348، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدر المختار: (ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت، لانها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق أو أنكر (ج3، ص520، ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع : وعلى هذا يبنى وقت وجوب العدة أنها تجب من وقت وجود سبب الوجوب من الطلاق، والوفاة، وغير ذلك حتى لو بلغ المرأة طلاق زوجها أو موته فعليها العدة من يوم طلق أو مات عند عامة العلماء، وعامة الصحابة رضي الله عنهم (ج3، ص190، ط؛ دار الکتب)۔