کیا فر ماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم دونوں میاں بیوی کی لڑائی ہو ئی ، پھر لڑائی کے بعد میں نے اپنی ساس کو فون پہ کہا "میں نے اس کو فار غ کر دیا ہے اس کو لے جاؤ" یہ جملہ میں نے صرف ایک بار کہا تھا اور بیوی بد زبانی کررہی تھی ، اس لئے میں نے صرف اس کو ڈرانے کے لئے مذکور جملہ کہا تھا ،طلاق دینے کی کوئی نیت نہیں تھی، اب آپ مذکور واقعہ کو دیکھتے ہو ئے حکمِ شرعی سے آگاہ کریں کہ کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور رجوع کا کیا طریقہ کار ہے ؟اس واقعہ کے بعد ہم میاں بیوی ایک رات ساتھ رہے اور بیوی نے مجھے بوسہ وغیرہ کیا تھا ۔
واضح ہو کہ "فاغ ہو" کا جملہ عندالقرینہ طلاق ِبائن کے لئے استعمال ہو تا ہے ، اور اس سے طلاقِ بائن واقع ہو کر نکاح ختم ہو جا تا ہے ، چنا چہ صورتِ مسؤلہ میں سائل نے جب اپنی ساس کو فون پر غصے کی حالت میں کہا کہ" میں نے اس کو فا رغ کر دیا ہے "تو اس جملہ سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونو ں کا نکاح ختم ہو چکا ہے ، چنا نچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر نکاح کے ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہو ا ہے ، اس پر دونوں بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے بھی مکمل اجتناب کریں ، اب اگر دونوں میاں بیوی ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہو ں تو اس کے لئے گواہو کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باعدہ ایجاب وقبول کر کے دوبارہ نکاح کرنا لازم اور ضروری ہو گا ، تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کے لئے سائل کے پاس فقط دوطلاقوں کا اختیار ہو گا ، لہذا آئندہ کے لئے طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے ۔
کما فی الھندیۃ: (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام (الی قولہ) وحالةمذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي(کتاب الطلاق باب الکنایات 375ج1 ط:ماجدیہ)۔
وفیھا ایضاً: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن(کتاب الطلاق ط:ماجدیہ)۔