میری بیوی سے میری لڑائی ہوتی ہے، وہ پیچھے سے آکر مجھے دھکا دیتی ہے، اور میں گر جاتا ہوں، اس کے بعد میری بیوی میرے ساتھ بدتمیزی اور زبان دارازی کرتی ہے، اور پھر اپنے والد کو کال کرتی ہے اور سارا قصہ غلط انداز میں بیان کرتی ہے، جس کے بعد میں بیوی کا موبائل فون لے لیتا ہوں، تو وہ پھر سے میرے ساتھ ہاتھا پائی کرتی ہے، جس کے بعد میں تنگ آکر اس کے پھوپھا کو کال کرتا ہوں کہ یہ میری بات نہیں مان رہی ہے، آپ آکر اسے لے جائیں، میں اس صورتحال میں نہیں رکھ سکتا ہوں (یہاں میری نیت صرف کچھ دن کا وقفہ دینا اور موجودہ گرم صورتحال کو ٹھنڈا کرنا تھا، کیوں کہ میری بیوی مجھ سے مسلسل زبان دارازی کرتی رہی ہے) اس کے بعد اگلے دن سحری کے بعد میری بیوی کے والدین اور پھوپھا اور ایک مفتی صاحب آتے ہیں، اور سارا ماجرہ سنتے ہیں، جس کے بعد مفتی صاحب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ عامر (شوہر) تم اس بیوی کو رکھ سکتے ہو؟ میرا جواب: نہیں میں اس صورتحال میں نہیں رکھ سکتا ہوں، میری دل میں نیت کچھ دن کا وقفہ اور معاملہ کا ٹھنڈا ہونا تھا، اور ساتھ ہی الگ رہائش کی تیاری بھی چل رہی تھی، دل میں نیت یہ تھی کہ کچھ دن کا وقفہ مل جائے اور الگ رہائش بھی مکمل ہوجائے، لیکن مفتی صاحب کے سامنے میں نے یہی بولا: اس صورتحال میں نہیں رکھ سکتا ہوں , پھر سے مفتی صاحب نے پوچھا جیسی بھی ہے رکھ سکتے ہو، میرا جواب تھا: مفتی صاحب آپ اس صورتحال میں کیا کریں گے مفتی صاحب کہتے ہیں، مجھے چھوڑو تم اپنی بات کرو، میں پھر جواب دیتا ہوں، ابھی میں نہیں رکھ سکتا ہوں (دل میں نیت وہی تھی جو اوپر بیان کردی ہے) یہ میری بیوی نافرمان ہے، باغی ہے، میری بات نہیں مانتی ہے، اس صورتحال میں نہیں رکھ سکتا ہوں، اس کے بعد حق مہر مفتی صاحب کے حوالے کرنے کے بعد، چونکہ حق مہر شوہر کے پاس ہوتا ہے، تو حق مہر دیکھتے ہی میری بیوی کی والدہ میرے کمرے میں بغیر اجازت کے جاتی ہیں، اور میری بیوی کے ساتھ مل کر سارا سامان پیک کر لیتی ہیں، یہ منظر دیکھ کر مجھے غصہ آتا ہے، اور میں مفتی صاحب کو کہتا ہوں، مجھے اجازت دیں میں فیصلہ سناتا ہوں، مجھے مفتی صاحب منع کرتے ہیں , مفتی صاحب مجھے کہتے ہیں کہ آپ ۱۵ دن کا ٹائم لے لیں اور سوچ لیں، ابھی فیصلہ نہ کریں، میرے والد کہتے ہیں کہ ہمارا فیصلہ فائنل ہے، ہم اس رشتے کو ختم کریں گے، ۱۵ دن کے بعد بھی یہی فیصلہ ہو گا، اور نکاح رجسٹرڈ نہیں ہے، اس لئے عدالتی کاروائی کی بھی ضرورت نہیں ہے، اس وقت بھی میری کوئی نیت یا فیصلہ نہیں ہوتا ہے۔ لیکن میرے والد صاحب غصہ میں بات کر رہے ہوتے ہیں، میں نے والد صاحب کو کوئی اختیار نہیں دیا ہوا تھا، اب ۱۵ دن کے اندر اندر میں بیوی کو آباد کرنا چاہتا ہوں، لیکن میری بیوی کہہ رہی ہے کہ طلاق ہو گئی ہے، آپ سے گذارش ہے کہ بتائیں ہمارا نکاح موجود ہے یا ختم ہو گیا ہے؟ اوپر بیان کردہ ساری تحریر سچ ہے۔ جزاک اللہ خیر
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی اور غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو،اس طور پر کہ سائل نے اپنی بیوی کی زبان درازی اور مسلسل لڑائی جھگڑے سے تنگ آکر اس کے متعلق مذکور الفاظ "میں اس صورتحال میں نہیں رکھ سکتا" کہے ہوں، تو چونکہ ان الفاظ سے بیوی کے مذکور رویہ کے ہوتے ہوئےاس کے ساتھ نباہ کے مشکل ہونے کو بیان کرنا ہوتاہے، طلاق دینا مقصود نہیں ہوتا، اس لئے ان الفاظ کے استعمال سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے، جبکہ بیوی کو بھی چاہیئے کہ وہ شوہر کی عزت اور اس کا ادب واحترام کر ے، چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سےلڑائی جھگڑا کرکے اپنا گھر برباد نہ کرے، بلکہ وسعتِ ظرفی کا مظاہر ہ کرتے ہوئےشوہر کی سخت اور کڑوی باتوں کو برداشت کرلیا کرے، اور شوہر کو بھی چاہیئے کہ بلاوجہ چھوٹی موٹی باتوں پر بیوی سے نہ الجھے،اور اسکی بھی غلطیوں کو معاف کردیا کرے،تاکہ گھر کا ماحول خوش گوار رہے۔
کما فی الدرالمختار: الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي)(الی قولہ) (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا الخ (ج3 صـ297-301 کتاب الطلاق باب الکنایات ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم كقوله اعتدي واختاري وأمرك بيدك فإنه لا يصدق فيها كذا في الهداية الخ (ج1 صـ374-375 کتاب الطلاق ط: دار الفکر)۔
وفی بدائع الصنائع: ولو جمع بين ما يصلح للطلاق وبين ما لا يصلح له بأن قال لها: اذهبي وكلي، أو قال اذهبي وبيعي الثوب، ونوى الطلاق بقوله اذهبي ذكر في اختلاف زفر ويعقوب أن في قول أبي يوسف: لا يكون طلاقا وفي قول زفر يكون طلاقا الخ (ج3 صـ108 کتاب الطلاق ط: دار الكتب العلمية)۔