مسمیٰ ۔۔۔۔۔نے وائس کے ذریعے اپنے بیوی مسماۃ ۔۔۔۔کو طلاق دی، الفاظ طلاق یہ ہے کہ "طلاق" دس بار بولا ہے، یہ طلاق والا لفظ اپنے بھائی کو وائس کے ذریعے بولا ہے ، میری طرف سے طلاق ہے، دس بار بولا ہے، میری طرف وائس کرنے کی ضرورت نہیں، میری طرف سے اس کو طلاق ہے۔ ابھی بھیج رہے ہو ان کو یا صبح بھیج رہے ہو، جب بھی تم لوگوں کی مرضی ہو تین بار طلاق دی ہے۔ دوسری وائس میں عباس نے اپنے بھائی کو بولا ہے میری کال میں بات ہوئی ہے کہ میں نے اس کو بولا ہے کہ میری طرف سے اس کو طلاق ہے، یہ طلاق والا لفظ پانچ مرتبہ بولا ہے، سمجھ آئی اپنے ذمہ داری پررکھ گیے تو رکھ لو، میرے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق شوہر مسمیٰ ۔۔۔۔نے جب وائس میسج کے ذریعے اپنی بیوی مسماۃ ۔۔۔۔۔ کو تین دفعہ سے زیادہ صریح الفاظ میں طلاق دی تو اس سے اسکی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جبکہ بقیہ الفاظ محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکے ہیں، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام ِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما في الهندية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ، أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ (فصل في ما تحل له به المطلقة ، ج ١، ص ٤٣٧، ط: ماجدية) -