کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ: میں مسمی۔۔۔۔۔۔ نے اپنی بیوی مسماۃ ۔۔۔۔کو آج سے تقریباً دوسال قبل تحریری طور پر ایک طلاق دی تھی، اس کے بعد ہمارے درمیان کوئی رجوع نہیں ہوا تھا، لیکن اب ہم دوبارہ ملنا چاہتے ہیں، تو کیا ہم رجوع کرسکتے ہیں یا ہمارے لئے کیا طریقہ کار ہے، جوبھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں؟
سائل نے اگر نکاح ورخصتی کے بعد منسلکہ طلاق نامے کے ذریعے تحریری طور پر اپنی بیوی کو فقط ایک طلاق دی تھی، تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی، جس کے بعد سائل کو دوران عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن اگر سائل نے دوران عدت رجوع نہ کیا ہو، اور عدت گزر چکی ہو تو یہ طلاق، طلاق بائن بن چکی ہے، اور اس کی وجہ سے دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے، چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، البتہ اگر سائل اور اسکی بیوی دوبارہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو اس کے لئے باضابطہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدید نکاح لازم ہوگا، تاہم اس کے بعد آئندہ کے لئے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اسلئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کمافی ردالمحتار: تحت( قولہ: کتب الطلاق الخ) (الی قولہ) بان کتب اما بعد فانت طالق فکما کتب ھذا یقع الطلاق وتلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ الخ (ج3 صـ246 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: (واما حکمہ) فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجعی وبدونہ فی البائن کذا فی فتح القدیر وزوال حل المناکحۃ متی تم ثلاثا کذا فی محیط السرخسی الخ (ج1 صـ348 کتاب الطلاق الباب الاول فی تفسیرہ ورکنہ وشرطہ وحکمہ ط: ماجدیۃ)۔