السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا موبائل پر ، نکاح اس طرح ہوا کہ میں اور لڑکی ایک کمرے میں تھے اور مولوی اور گواہان فون پر،مولوی نے تین بار مجھ سے پوچھا کہ مجھے اجازت ہے کہ تمہارا نکاح اس لڑکی کے ساتھ پڑھادوں ؟ اور لڑکی سے بھی پوچھا پھر ایجاب و قبول اور خطبہ پڑھا آخر میں کہا کہ میں نے ایک طرف سے نکاح پڑھایا اور دوسرے کی طرف سے قبول بھی کیا، اس وقت مجھے معلوم نہیں تھا کہ مولوی اختیار لے رہا تھا، ہم سے کیا یہ نکاح ہوگیا؟
سائل اور مذکور لڑکی کا اولیاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر اس طرح نکاح کرنا تو قطعاً مناسب نہیں تھا ، تاہم اگر سائل مذکور لڑکی کا کفو اور ہم پلہ ہو اور مولوی صاحب نے سائل اور مذکور لڑکی سے نکاح کرانے کا اختیار لیکر گواہوں کی موجودگی میں مہرِ مثل پر باقاعدہ ایجاب وقبول کر کےنکاح پڑھایا ہو ،تو شرعاً یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے ، تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہو تو اسکی مکمل وضاحت کر کے سوال دوبارہ ای میل کرے ، ا س پر غور اور فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائیگا۔