کیا فرما تے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی بلال حسین ولد سید اکبر نے گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران بیوی کی غیر موجودگی میں چھ مرتبہ طلاق کے الفاظ بولے ، پہلے میں نے کہا "بیگم کو میں نے تین طلاق دی " پھر قرآن پکڑ کر کہا کہ " میں نے بیگم کو تین طلاق دی " گھروالوں کے فورس کرنے پر میں بیگم کو والدین کے گھر چھوڑ کر آیا تھا ، اور یہ طلاق میں نے اپنے گھر میں والدین اور بہن بھائیوں کے سا منے دی تھی ، بیگم موجود نہیں تھی ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ ایسی صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ اور اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لئے بیوی کا سامنے موجود ہونا شرعاً لازم نہیں ، بلکہ اس کی غیر موجودگی میں بھی اگر شوہر طلاق دے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ، چنانچہ سائل نے جب اپنے گھر میں والدین اور بہن بھائیوں کے سا منے گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران بیوی کی غیر موجودگی میں اس کو مذکور الفاظ " بیگم کو میں نے تین طلاق دی " کہہ دئے تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،اور بقیہ الفاظ طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئے ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائل کی بیوی ایّام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ زوج اول دوبارہ اسکے ساتھ عقد نکاح کرے ، یہ مکروہ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الخ ( سورة البقرة ، الأية : 230)-
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي ، ج 2 ، ص 1243 ، رقم : 2639 ، ط : البشرى )-
و في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ( فصل وأما حكم البائن ، ج 3 ، 187 ، ط : سعيد )-