کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کسی ناراضگی کی وجہ سے میں نے اپنی بیگم کو ان کے چچا کے گھر جانے اور ان کے گھر والوں سے بات چیت کرنے سے منع کیا تھا ، اور یہ الفاظ بولے تھے کہ " اگر تم ان کے گھر گئی تو مجھ سے فارغ ہو اور اگر ان سے بات چیت کی تب بھی مجھ سے فارغ ہو " اور یہ طلاق ہی کی نیت سے بولا تھا ، ابھی تک نہ وہ ان کے گھر گئی ہے نہ بات چیت ہوئی ہے ، لیکن اب وہ لوگ ہمارے گھر آنا چاہتے ہیں صلح صفائی کے لئے تو ایسی صورت میں کیا طلاق واقع ہوگی اور کتنی واقع ہونگی ؟ اور آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟کیونکہ ہم بھی چاہتے ہیں کہ صلح ہوجائے تو اچھا ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے اپنی بیوی کو طلاق کی نیت سے جب مذکور جملہ کہا تو اس سے دو (2) بائن طلاقیں معلق ہوچکی ہیں ، تاہم اگر سائل کی بیوی اپنے چاچا کے گھر جاکر اپنے چاچا اور اس کے اہل خانہ سے بات چیت کرلے یا اپنے چاچا اور اس کے اہل خانہ سے بات چیت کرنے کے بعد تجدید نکاح کے قبل چاچا کے گھر چلی جائے تو چونکہ طلاق بائن ، طلاق بائن کو لاحق نہیں ہوتی اس لئے سائل کی بیوی پر فقط ایک طلاق بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا ، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو اس کے لئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ تجدیدِ نکاح لازم ہوگا ، تاہم اس صورت میں تجدیدِ نکاح کے بعد سائل کو آئندہ کے لئے فقط دو (2) طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی الھندیۃ : (الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام الخ ( ج۱ ، ص۳۴۷۴ ، کتاب الطلاق ، ط۔ ماجدیہ)۔
وفی المبسوط للسرخسی : (قال) ولو قال أنت مني بائن أو بتة أو خلية أو برية فإن لم ينو الطلاق لا يقع الطلاق الخ ( ج۶ ، ص۷۲ ، کتاب الطلاق ، ط۔دارالمعرفہ )۔
و فی الدر المختار : الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب،اھ ( ج۳ ، ص۲۹۶، کتاب الطلاق ، باب الکنایات ، ط۔سیعد )۔
و فیہ ایضاً : (لا) يلحق البائن (البائن) الخ ( ج۳ ، ص۳۰۸ ، کتاب الطلاق ، باب الکنایات ، ط۔سیعد )۔
و فی الھندیۃ : و إذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق الخ ( ج۱ ، ص۴۲۰ ، کتاب الطلاق ، ط۔ماجدیہ )۔