السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا نام ۔۔۔۔ہے، ہم چار بھائی اور ایک بہن ہے، اور سب ماشاءاللہ بڑے اور بالغ ہیں، میری عمر 35 سال ہے، میں بہت سالوں پہلے سے ایک لڑکی کو بےحد پسند کرتا ہوں، مگر وہ لڑکی طلاق یافتہ ہے اور ایک بچی کی ماں ہیں، جس کے لئے میرے ماں باپ بے حد مخالف ہیں، مگر میں اپنے دل ودماغ سے لاکھ کوششوں کے باوجود بھی اس سے دور نہیں ہوسکا، اور وہ لڑکی مجھ سے نکاح اور حلالہ کو ترجیح دیتی ہے، اور اللہ کو راضی رکھنے کی، شیطانی وسوسوں اور گناہ سے بچنے کا کہتی ہے ہمیشہ، میں 13 سے 14 سال سے اس کے ساتھ بات چیت کرتا رہا ہوں، اور اب میں نے حرام اور گناہ سے بچنے کے لئے اس لڑکی سے نکاح کرلیا ہے، الحمد للہ، مگر اب میرے ماں باپ مجھے حکم دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اس لڑکی کو طلاق دے دو، ورنہ ہم سے تعلق ختم کر کے اس گھر سے جاؤ، اب مجھے جاننا ہے کہ اگروالدین کا یہ حکم مانتا ہوں تو یہ میری بیوی کے ساتھ ظلم ہے یا نہیں؟ اور اگر نہیں مانتا تو مجھ پر والدین کی نافرمانی عائد ہوتی ہے یا نہیں؟ مجھے بتائیں کہ والدین کا یہ حکم جو اپنے پسند کی شادی پر ہے ، یہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ اور اس حکم کے نہ ماننے پر میں گناہ گار اور نافرمان ہونگا یا نہیں؟ کیونکہ میں یہ حکم ہر گز نہیں ماننا چاہتا، اور اپنے والدین کو بھی بے حد چاہتا ہوں، اس لئے کسی کا بھی دل نہیں دکھانا چاہتا اور نہ ظلم چاہتا ہوں اپنی ذات سے ، براہ کرم میرے حالات اور سوالات کاقرآن کی روشنی میں جلد از جلد جواب دیجئے۔
سائل کا اتنا طویل عرصہ مذکورہ اجنبی لڑکی سے تعلق رکھنا، اس سے بات چیت کرنا، بے تکلفی اختیار کرنا شرعاً ناجائز وحرام تھا ، جس کی وجہ سے وہ دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں، جس پر انہیں بصدق دل توبہ واستغفار کرنا لازم ہے، جبکہ اولیاء کی اجازت ورضامندی کے بغیر لڑکا لڑکی کا اس طرح چھپ کر نکاح کرنا بھی انتہائی قبیح فعل ہے، شریف خاندان میں اس طرح نکاح کرنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے، اور عموماً اس طرح کے نکاح کا نتیجہ بڑوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے خلع یا طلاق ہی کی صورت میں نکلتاہے، تاہم سائل اور مذکور لڑکی اب جب نکاح کرچکے ہیں تو اگر اس رشتے کو ختم کرنے کی کوئی معقول عذر نہ ہو اور فقط والدین کی مرضی کے خلاف اس لڑکی سے نکاح کرنے پر والدین سائل کو مذکور لڑکی کو طلاق دینے کا مطالبہ کررہے ہوں، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے اپنی بیوی کو طلاق دینا تو مناسب نہیں، البتہ سائل اور اس کی بیوی کو چاہئے کہ والدین سے دست بستہ معافی مانگتے ہوئے انہیں اس شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں، تاکہ بڑؤں کی دعائیں میاں بیوی کے شامل حال ہو کر ان کی آئندہ کی زندگی خوشگوار ہوسکے۔
کمافی ردالمحتار:تحت (قوله فنفذ إلخ) أراد بالنفاذ الصحةفمعارض بقوله - صلى الله عليه وسلم - «الأيم أحق بنفسها من وليها» رواه مسلم وأبو داود والترمذي والنسائي ومالك في الموطأ،والأيم من لا زوج لها بكرا أو لا فإنه ليس للولي إلا مباشرة العقد إذا رضيت وقد جعلها أحق منه به،ويترجح هذا بقوة السند والاتفاق على صحته،الخ (ج3 ص55 باب الولی ط سعید)۔
وفی الفقہ الحنفی: لا اجبار علی البکر البالغۃ فی النکاح لماروت السیدۃ عائشۃ عن النبی ﷺ قال، استامروا النساء فی ابضاعھنّ الخ(ج2 ص161 کتاب النکاح ط سعید)۔