کیا میں میرے شوہر کو طلاق کے بغیر چھوڑ سکتی ہوں ؟
سائلہ کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ طلاق کے بغیر شوہر کو چھوڑنے کا کیا مقصد ہے؟ تا کہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائلہ کا منشاء یہ ہو کہ طلاق یا خلع کے بغیر شوہر سے جدائی اختیار کرے ، تو واضح ہو کہ شرعاً میاں بیوی کارشتہ طلاق ،خلع یا چند شرائط کے ساتھ فسخِ نکاح کے ذریعہ ختم ہوتا ہے، اس کے علاوہ شوہر کو چھوڑنے یا اس سے علیحدہ رہنے سے یہ رشتہ شرعاً ختم نہیں ہوتا ،لہذا فقط شوہر کو چھوڑنے سےسائلہ کا یہ رشتہ ختم نہ ہوگا ، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اسکی مکمل وضاحت کرکے سوال دوبارہ ای میل کردے، اس پر غورو فکر کے بعدان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگا کیا جائیگا ۔
کما فی الدر المختار: کتاب الطلاق(هو) لغة رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا(الی قولہ) وشرعا (رفع قيد النكاح فی الحال)بالبائن(او المآل)بالرجعی(بلفظ مخصوص)ھو ما اشتمل علی الطلاق الخ(ج 3 ص 226)۔
وفیہ ایضا:باب الخلع(ھو)لغۃ الازالۃ(الی قولہ)وشرعاً کما فی البحر(ازالۃ ملک النکاح)خرج بہ الخلع فی النکاح الفاسد الخ(ج 3 ص 439)۔