جناب! میں نے ایک لڑکی سے نکاح کیا،خود کو اور اس کو پاک کرنے کے لئے ،لیکن اس کی فیملی کی اجازت کے بغیر چھپ کے،اب وہ لڑکی طلاق مانگ رہی ہے اور میں اسے طلاق دینا نہیں چاہتا ،رکھنا چاہتا ہوں اسے،میں پہلے سے شادی شدہ تھا،لیکن پھر بھی اپنی فیملی کو منایا نکاح کے لئے،تو کیا میری مرضی کے بغیر کورٹ اسے خلع دے سکتی ہے؟
جو نکاح شرعی گواہان (دو مرد یا دو عورتوں اور ایک مرد) کی موجودگی میں کیا جائے وہ شرعاً منعقد ہوجاتا ہے،اس لئے اگر سائل مذکور لڑکی کا کفؤ ہوں،اور یہ نکاح بھی باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے ہوچکا ہوتو یہ نکاح شرعاً بھی منعقد ہوچکا ہے،لہذا اب وہ دونوں میاں بیوی ہیں،سائل کو چاہئیے کہ وہ اس کے والدین کو سمجھاکر اس رشتہ کو بچانے کی فکر کرے،تاہم اس کے باوجود اگر وہ اس کے لئے تیار نہ ہوں تو طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے اس رشتہ کو ختم کرنے کی اجازت ہے،البتہ اگر سائل کے سسرال والے سائل کی اجازت ورضامندی کے بغیر عدالت سے یکطرفہ خلع کی ڈگری حاصل کرلیتے ہیں،تو چونکہ خلع کی درستگی کے لیے شرعاً فریقین کی باہمی رضامندی اورباقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے،جبکہ عدالتی یکطرفہ خلع کے اندر یہ شرائط مفقود ہوتی ہیں،اس لئے سائل کی رضامندی کے بغیر یکطرفہ طور پر عدالتی خلع کی وجہ سے دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوگا،لیکن اگر سائل کی دوسری بیوی اور اس کے والدین اس رشتہ کو نبھانے کے لئے کسی صورت بھی تیارنہ ہوں تو سائل کو بھی چاہیئے کہ اس رشتہ کو مزید لٹکانے اور اس کی زندگی برباد کرنے کے بجائے اسے اپنے نکاح کی بندھن سے آزاد کردے تاکہ وہ اپنے والدین کی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرسکے۔
کما فی أحکام القرآن للجصاص: قال أصحابنا انھما لایجوز خلعھما الا برضی الزوجین لان الحاکم لایملک ذلک الخ (ج2 ص191 باب الحکمین کیف یعملان ط: سھیل اکیڈیمی لاھور باکستان)۔
وفی ردالمحتار تحت (قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول الخ (ج3 ص441 کتاب الطلاق،باب الخلع ط: سعید)۔