میں یہ سوال اپنے بہنوئی کے بیان کے مطابق کر رہا ہوں، ان کا نام عامر شہزاد ہے، میری شادی کو 13 سال ہوچکے ہیں، اور میرے 3 بچے ہیں، 2013 میں میں نے ان الفاظ کے ساتھ اپنی بیگم کو طلاق دی کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اور عدّت کے دوران ہی رجوع کر لیا، پھر 2023 میں ہمارا جھگڑا ہوا ، اور میری بیگم گھر سے باہر جانے لگی تو میں نے اسکو یہ الفاظ بولے کہ"اگر تم گھر سے باہر گئی تو میں تمہیں تین طلاقیں دے دوں گا " اس کےباوجود بیگم اس وقت باہر چلی گئی ، اب پوچھنا یہ ہے کے میری بیگم کو کتنی طلاقیں ہو چکی ہیں ، اور کیا ہم دوبارہ اکھٹے رہ سکتے ہیں ؟بیوی نے شوہر کے بیان کی مکمّل تصدیق کی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل کے بہنوئی نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعے ایک طلاق دیکر دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا ،تو اس کا یہ رجوع شرعاً درست ہوکر نکاح بدستور برقرار رہا تھا، جبکہ حالیہ جھگڑے کے دوران سائل کے بہنوئی نے مذکور الفاظ" اگر تم گھر سے باہر گئی تو میں تمہیں تین طلاق دے دونگا" کہے ہوں، اور بیوی گھر سے نکل گئی ہوتو چونکہ یہ طلاق کی دھمکی ہے، انشاءِ طلاق نہیں اس لئےاس سےاس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے،اس لئے دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں، تاہم آئندہ کے لئےشوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، لہذا طلاق کے معاملے میں آئندہ خوب احتیاط کی ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں میاں بیوی کو پریشانی وندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
قال اللہ تعالی: الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ(الی قولہ) فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(سورۃ البقرۃ آیۃ 228)۔
وفی الدرالمختار: بخلاف قوله طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لأنه وعد جوهرة،الخ(ج3 ص319 باب التفویض الطلاق ط سعید)۔
وفی الھندیۃ: سئل نجم الدين عن رجل قال لامرأته اذهبي إلى بيت أمك فقالت طلاق ده تابروم فقال تو برو من طلاق دمادم فرستم قال لا تطلق لأنه وعد كذا في الخلاصة.الخ (1ص 384 الفصل السابع فی الطلاق بالالفاظ الفارسیۃ ط ماجدیۃ)۔