مجھے میرے شوہر نے میسج پر طلاق دی ہے کہ "نبیہا طلاق ہو"ایسے دو مرتبہ بولا ہے اور مسیج ڈیلیٹ کر دیا واٹس ایپ پر ، اور میری ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ہے ، تو کیا مجھے طلاق ہو گئی ہے یا نہیں ؟
نوٹ:خلوت صحیحہ نہیں ہوئی ہے۔
سائلہ کے شوہر نے نکاح کے بعد رخصتی و خلوتِ صحیحہ سے قبل اگر واقعۃواٹس ایپ پر دو بار مذکور الفاظ"نبیہا طلاق ہو "کے ذریعہ دو طلاقیں دی ہوں اگر چہ وہ میسج شوہر نے ڈیلیٹ کر دیے ہوں تب بھی ان میں سے پہلی بار کہے گئے جملہ "نبیہا طلاق ہو"کہنے سے سائلہ پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے ،جبکہ دوسری طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گیئ ہے ، لہذا سائلہ فی الفور دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ،تاہم اب اگر سائلہ اور اس کے شوہر دوبارہ ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا چاہیں ، تو شرعی گواہان کی موجود گی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب وقبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا ، تاہم اس صورت میں آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق، قوله (وكذا أنت طالق ثلاثا متفرقات) أو ثنتين مع طلاق إياك (ف) طلقها واحدة وقع (واحدة) كما لو قال نصفا وواحدة على الصحيح جوهرة الخ( ج 3 ص 286)۔
وفی رد المحتار :تحت (قوله وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق الخ( ج 3 ص 286)۔