بیوی سے موبائل فون پر جھگڑا ہوا اور غصہ میں کہہ دیا کہ، تیرا میرا رشتہ ختم، کیا ان الفاظ سے طلاق ہوئی یا نہیں؟
سائل نے بیوی کو اگر واقعۃً بلا نیتِ طلاق مذکور الفاظ " تیرا میرا رشتہ ختم " کہے ہوں، تو اس سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ میاں و بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار ہے، البتہ اگر شوہر نے طلاق کی نیت سے مذکور الفاظ کہے ہوں، تو اس سے بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر میاں و بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ اگر دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو اس کے لئے باہمی رضامندی سے نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرنا لازم ہوگا، لیکن اس نکاح کے بعد شوہر کے پاس آئندہ کے لئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
کما فی الھندیۃ: ولو قال لم يبق بيني وبينك شيء ونوى به الطلاق لا يقع وفي الفتاوى لم يبق بيني وبينك عمل ونوى يقع كذا في العتابية الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 376 ط: ماجدیہ)۔
و فی الھدایۃ: الطلاق علی ضربین: صریح و کنایۃ، فالصریح قولہ: أنت طالق، و مطلقۃ، و مطلقتک، فھذا یقع بہ الرجعی ( الی قولہ ) وأما الضرب الثانی – وھو الکنایات، لا یقع بھا الرجعی الا بالنیۃ أو بدلالۃ الحال الخ ( کتاب الطلاق ج 2 ص 61 ط: انعامیہ )۔