السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ کیا بیوی اپنے شوہر کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہے یا کوئی دوسرا طریقہ ہے؟
واضح ہو کہ مرد کے لئے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے ، اور بلا عذر گھر میں نماز پڑھنے پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، اس لئے اولاً تو بغیر عذر اور مجبوری کے مسجد کی جماعت ترک کرنا درست نہیں ، البتہ اگر کسی شرعی عذر کی وجہ سے مسجد کی جماعت رہ جائے اور قریب میں کسی دوسری مسجد میں بھی جماعت ملنے کی امید نہ ہو ، تو اپنی بیوی کو ساتھ ملا کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جا سکتی ہے ، جس کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی دوران جماعت شوہر کےبرابر کھڑی نہ ہو ، بلکہ شوہر کے پیچھے پچھلی صف میں کھڑی ہو۔
کما في رد المحتار: ولنا "انه علیه الصلوۃ والسلام كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى اهل المسجد فرجع الى منزله فجمع اهله وصلی"(باب،الامامۃ،ج1،ص553،ط:سعید) –
وفي رد المحتار تحت : ( قوله فلو دخل الصف ) ذكره في البحر بحثا ، قال و كذا لو كان المقتدى رجلا و صبیاً يصفهما خلفه لحديث انس "فصففت أنا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا" وهذا بخلاف المرأة الواحدة فإنها تتأخر مطلقاً کالمتعددات للحدیث المذکور اھ ( باب الامامۃ ، ص 571 ) ۔
وفي رد المحتار تحت: ( قوله وخصه الزیلعی الخ ) حيث قال المعتبر في المحاذاۃ الساق والكعب في الأصح ، و بعضهم اعتبر القدم اھ فعلی قول البعض لو تأخرت عن الرجل ببعض القدم تفسد وإن كان ساقها و کعبها متأخرا عن ساقه وكعبه ، وعلى الأصح لا تفسد وان كان بعض قدمها محاذ بالبعض قدمه بأن كان اصابع قدمها عند كعبه مثلاً تأمل الخ ( باب الامامة ، ج 1 ، ص 572، ط : سعید ) ۔