السلام علیکم!
اگر شوہر بیوی سےناراض ہو اور بیوی کو بھی شوہر کی کوئی پرواہ نہ ہو، دونوں کے درمیان تین سال سے کوئی تعلق نہ ہو، کیا اس طرح طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟ بیوی طلاق مانگ رہی ہے،شوہر طلاق نہیں دینا چاہتا، بیوی کے گھر والے طلاق کےلئے دباؤ ڈال رہے ہیں،شوہر کہتا ہے لڑائی کی وجہ ٹھیک کرو، بیوی کچھ سننے کے لئے تیار نہیں ہے، نہ اپنی کوئی غلطی تسلیم کرتی ہے، صرف طلاق کی ضد ہے، شریعت کیا کہتی ہے؟ رہنما ئی فرمائیں، جزاکم اللہ خیرا
واضح ہو کہ میاں بیوی کے اِس طرح الگ رہنے سے شرعاً نہ تو نکاح ختم ہوتاہے اور نہ ہی اس علیحدگی سے طلاق واقع ہوتی ہے، خواہ کتناہی عرصہ گزر جائے، دونوں اب بھی حسبِ سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم اگر بیوی کی غلطی ہو اور وہ بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کررہی ہو تو اُس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہورہی ہے، اُس پر لازم ہے کہ اپنے اِس غلط طرزِ عمل سے باز آکر شوہر سے معافی مانگے اور اپنا گھر آباد رکھنے کی فکر کرنے کے ساتھ ساتھ آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کرے، جبکہ شوہر کو بھی چاہیئے کہ وسعت ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیوی کی چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف اور درگزر کردیا کرے، لیکن اگر ہر وقت کی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے دونوں کا حدود اللہ پر رہتے ہوئے اِس رشتہ کو برقرار رکھنا ناممکن ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں شوہر اُس کو ایک طلاق دے کر اپنی زوجیت سے الگ کرسکتاہے، اور اِس صورت میں شوہر گنہگار نہیں ہوگا۔
کما فی سنن أبی داود: عن ثوبان قال: قال رسول الله ﷺ: ”أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة“ (رقم الحدیث: 2226، ج : 2، صـــ235)
وفی الشامیۃ: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر اھ (ج3،صـــ228،ط:سعید)۔
وفی التنویر مع الدر: (طلقة) رجعية (فقط في طهر لا وطء فيه) وتركها حتى تمضي عدتها (أحسن) بالنسبة إلى البعض الآخر اھ (ج3،صـــ231،ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: (أما تفسيره) شرعا فهو رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص كذا في البحر الرائق(وأما ركنه) فقوله: أنت طالق. ونحوه كذا في الكافي اھ (ج1،صـــ348،ط:ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما بيان ركن الطلاق فركن الطلاق هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق اھ (ج3،صـــ98،ط:سعید)۔