السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری شادی کو نو سال کا عرصہ ہو چکا ہے ، اس نکاح سے ہمارے چھ بچے بھی ہیں، آج سے تقریباً تین سال قبل میرے شوہر نے مجھے یہ جملے بولے تھے " طلاق دیتا ہوں، طلاق دیدی، طلاق دیدونگا" اس کے بعد بھی ہم دونوں میاں بیوی کی طرح رہتے رہے، ابھی ایک ہفتہ قبل پھر میرے شوہر نے کہا " طلاق دیتا ہوں " پھر یہ گھر سے چلے گئے پھررات کو فون کرکے کہا کہ " طلاق دیتا ہوں، میں کل آکر فارغ کروں گا، اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اورہمارے لئے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسؤلہ میں سائلہ کے شوہر نے تین سال قبل واضح اور صریح الفاظِ طلاق "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں نے تمہیں طلاق دی" کے ذریعے سائلہ کو دو (2 ) طلاقیں دیں، تو اس سے سائلہ پر دو (2) طلاقیں واقع ہو چکی ہیں،اور شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا، جبکہ اس وقت استعمال کرنے والا تیسرا جملہ " میں طلاق دیدوں گا " چونکہ انشاءِ طلاق کے لئے مستعمل نہیں ، بلکہ طلاق کی دھمکی اور وعدہِ طلاق پر مشتمل ہے، اس لئے مذکور جملہ سے سائلہ پر تیسری طلاق واقع نہ ہوئی تھی، نیز دورانِ عدت شوہر کا رجوع کرنا بھی درست ہوا تھا ، البتہ اب حالیہ جھگڑے میں سائلہ کے شوہر نے جب یہ کہا کہ " میں طلاق دیتا ہوں" تو اس سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر مجموعی طور پر تینوں طلاقوں سے حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، جبکہ بقیہ طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فَإنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
وفی الھندیۃ: طلاق میکنم طلاق میکنم و کرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ کنم لأنہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک وفی المحیط لو قال بالعربیۃ أطلقک لا یکون طلاقا إلا إذا غلب استعمالہ للحال الخ (کتاب الطلاق ج1 صـ 384 ط: ماجدیۃ)
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)
وفیہ ایضاً: تحت (قولہ لا رجعۃ فیہ) فلو تخلل (إلی قولہ) إن کانت بالقول أو نحو القبلۃ أو اللمس عن شھوۃ الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 233ط: سعید)
و فی الدر المختار: (فروع (کرر لفظ الطلاق وقع الکل، وإن نوی التأکید دین الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 293 ط: سعید)
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)