السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ بولے" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "، اس کے بعد اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا او ر میں نے تیسری مرتبہ نہیں بولا، پھر میں اس کو ان کے والدین کے گھر چھوڑ آیا، تقریبا ً چالیس دن تک وہ اپنے والدین کے گھر رہی پھر اس کے بعد وہ واپس میرے گھر میں آگئی اور بیس دن تک میرے ساتھ رہی، پھر ہمارے دوران دوبارہ لڑائی ہوئی تو اس دوران میں نے ان کو یہ الفاظ بولے "جاؤ میں تمہیں طلا ق دیتا ہوں، اور گھر والوں کو بولا اس کو اس کے گھر چھوڑ کرآ ؤ، تو اس صورتِ حال میں کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟ اور کیا اب رجوع ہو سکتا ہے ؟
لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کو " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " واضح اور صریح الفاظ کے ذریعہ دو (2) طلاقیں دینے سے دونوں طلاقیں واقع ہو چکی تھیں , لیکن اس کے بعد دورانِ عدت رجوع کرنے سے یہ رجوع بھی درست ہوا ہے ، چنانچہ اب حالیہ جھگڑے میں سائل نے جب " جاؤ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں الخ " کے الفاظ کہہ دیے، تو اس سے سائل کی بیوی پر تیسری طلاق بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَإنْ طَلَّقَھَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)-
وفیہ ایضاً: تحت (قولہ لا رجعۃ فیہ) فلو تخلل (إلی قولہ) إن کانت بالقول أو نحو القبلۃ أو اللمس عن شھوۃ الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 233 ط: سعید)-
و فی الھدایۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ أو ثنتین فی الأمۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا (إلی قولہ) ویزاد علی النص بالحدیث المشھور و ھو قولہ علیہ السلام لا تحل للأول حتی تذوق عُسیلۃ الآخر الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 صـ 409 ط: قدیمی)-
و فی رد المحتار: تحت (قولہ لا رجعۃ فیہ) فلو تخلل (إلی قولہ) إن کانت بالقول أو نحو القبلۃ أو اللمس عن شھوۃ الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 233 ط: سعید)-