محترم مفتیان کرام صاحبان !السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خدمت اقدس میں گزارش یہ ہے کہ بنده احقر صدیق احمد ولد احمد حسین نے اپنے پورے ہوش وحواس میں اپنی زوجہ کو تین طلاق دیدی ہیں ، مسئلہ یہ ہیکہ ہماری مشترکہ کل ملکیت 60 گز کا مکان ہے چونکہ میں شوگر کا مریض ہوں اور ضعیف العمر بھی ہوں اس لئے کیا شرعی لحاظ سے میں اُسی گھر میں علیحدہ رہ سکتاہوں ؟
جبکہ اس گھر میں کل کمرے 3 ہیں ،علیحدہ علیحدہ واش روم 5 بچے ہیں چار لڑکیاں ایک لڑکا،دو لڑکیوں کی شادی ہو گئی ہے، اس وقت گھر میں دو لڑکیاں اور ایک لڑکا ہے لہٰذا آنجناب سے مودبانہ التماس ہیکہ میرے مسئلے کاشرعی حل بتا کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں ! جزاک اللہ .
تین طلاقوں کے بعد سائل اور اس کی بیوی کے لئے میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہنا جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے،تاہم اگر کسی عذر کی وجہ سے دونوں میاں بیوی اپنی اولاد کے ساتھ ایک گھر میں رہنا چاہیں،تو ایسی صورت میں عورت کے لئے سائل سے اجنبی مردوں کی طرح مکمل پردے کا اہتمام لازم اور ضروری ہوگا،چنانچہ اگر عورت سائل سے مکمل پردے کا اہتمام کرتے ہوئے علیحدہ رہائش اختیار کرے اور ایک ساتھ گھر میں رہنے کی وجہ سے کسی قسم کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو،تو ایسی صورت میں سائل اور اس کی مطلقہ بیوی ایک گھر میں اپنی اولاد کے ساتھ علیحدہ علیحدہ رہائش اختیار کرسکتے ہیں،تاہم اگر اس طرح رہائش اختیار کرنا کسی قسم کے فتنے میں واقع ہونے کا سبب بن سکتی ہو تو ایسی صورت میں دونوں کا بالکل الگ الگ مکان میں رہائش اختیار کرنا لازم ہوگا۔
کما فی الدر المختار: سئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف.الخ (ج3 ص538 کتاب الطلاق،فصل فی الحداد ط: سعید)۔
وفی رد المحتارتحت (قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط اھ(ج3 ص538 کتاب الطلاق،فصل فی الحداد ط: سعید)۔