کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی طلاق یافتہ بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہ رہا ہے، کیوں کہ کتابت میں اس نے اپنی بیوی کو ایک ہی طلاق دی ہے اور براہِ راست اپنی بیوی کو کوئی طلاق نہیں دی، جبکہ اس کی بھابھی جو کہ لڑکی کی بہن بھی ہے، اس بات پر مصر ہے کہ کتابت والی طلاق سے پہلے اس نے زبانی بھی تین طلاقیں دی ہیں اور جس محفل کا وہ حوالہ دے رہی ہے، وہ محفل کچھ یوں منعقد تھی:
مخاطبین یعنی لڑکے کی والدہ اور لڑکے کی بہن پہلی منزل پر موجود تھے، خاطب یعنی لڑکا سیڑھیوں سے اوپر چڑھتا ہوا آرہا تھا اور سامع یعنی لڑکی کی بہن دوسرے مالے پر نماز پڑھ رہی تھی اور گھر میں باقی افراد ( لڑکے کے دو بھائی، دو بھانجے ، ایک بھانجی اور ابو ) معمول کے مطابق کچھ موجود تھے اور کچھ نہیں تھے، ان میں سے کسی کے ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی، لیکن کچھ موجود تھے اور کچھ موجود نہیں تھے، لیکن لڑکے کی ماں اور بہن کے علاوہ کوئی بھی اس محفل کا حصہ نہیں تھا اور یہ کوئی خفیہ محفل بھی نہیں تھی۔
لڑکی ( سالی ) کا مؤقف:
لڑکے ( بہنوئی ) کا مؤقف:
1) اس صورت میں دوبارہ نکاح کا کیا حکم ہے؟ کیا 1 طلاق واقع ہوئی ہے یا 3؟
2) لڑکی کی بہن کا کہنا ہے ، کیوں کہ اسے یاد ہے ، اس لئے وہ اس رشتہ کی راہ میں ہر طرح سے حائل ہونے کی کوشش کرے گی، تو اس کے اس عمل کا کیا حکم ہے؟
3) اگر لڑکی کی گواہی معتبر نہیں ہے تو کیا وہ لڑکی اب ان کا رشتہ ہونے کے بعد اپنی بہن سے تعلق رکھ سکتی ہے؟
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائل کی سالی ( مسماۃ حمیرا ) اپنے بہنوئی مسمیٰ نعیم اللہ کے خلاف تین طلاقیں دینے کا دعوٰی کررہی ہے، جبکہ اس کے پاس اپنے دعوٰی کو ثابت کرنے کے لئے شرعی گواہان نہیں ہیں اور شوہر اس دعویٰ کامنکر ہے اور اس بات پر حلف اٹھانے اور آخرت کی جوابدہی کے لئے بھی تیار ہے اور سائل کی والدہ اور بہن بھی الفاظِ طلاق سننے سے انکاری ہیں، چنانچہ ایسی صورت میں قضاءً تین طلاقوں کا فیصلہ نہیں دیا جاسکتا ، لہٰذا دونوں کا ایک ساتھ میاں بیوی کی طرح رہنا شرعاً جائز تھا، تاہم اگر حالیہ واقعہ میں شوہر نے فقط ایک طلاقِ رجعی دی ہو اور عدت ابھی باقی ہو تو زبانی طور پر رجوع کرنے یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنے سے رجوع درست ہو کر دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہے گا،ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر دونوں کا نکاح ختم ہوجائے گا اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، البتہ اگر عدت کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، بہر دو صورت آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے،جبکہ شوہر کے حق میں فیصلہ ہوجانے کے بعد سالی کا اپنی بہن کے رشتہ میں حائل و رکاوٹ بننا درست نہیں ، البتہ اگر سالی نے واقعۃً تین طلاقیں بہنوئی کے منہ سے سنی ہوں ، تو اس کے لئے بغرضِ اصلاح قطعِ تعلقی اختیار کرنے کی گنجائش ہے۔
کما فی اعلاء السنن: البینة علی المدعي و الیمین علی من أنکر ( الی قولہ ) هذا الحدیث قاعدۃ کبیرۃ من قواعد الشرع الخ (کتاب الدعوی ج 15 ص 350 ط: ادارۃ القرآن )۔
وفی شرح المجلۃ: البينة للمدعي واليمين على من أنكر ( الی قولہ ) ھذہ القاعدۃ فی المتخاصمین یکون احدھما مدعیاً فقط فالحکم فیھا ان البینۃ علی المدعی والیمین علی المدعی علیہ المنکر ۔ وفی بعض الدعاوی قد یکون کل من المتخاصمین مدعیاً من وجہ، منکراً من وجہ، وذلک فی جمیع مسائل ترجیح البینات، لان کلاً منھما یقرر دعواہ وینکر دعوی خصمہ، فالحکم فیھا ان البینۃ تطلب اولاً من الطرف الراجح، فان اظھر العجز فمن الطرف المرجوح، فان عجز یحلف ویحکم لہ انھا ملکہ ولا یعدل عن ھذہ القاعدۃ الخ ( ج 1 ص 217 ط: حقانیۃ)۔
وفی الھندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية. الخ ( کتاب الطلاق ج 1 ص 470 ط: ماجدیۃ )۔
وفی بدائع الصنائع: فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد الخ ( ج 3 ص 187 ط: سعید )۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: - عن أبي أيوب الأنصاري - رضي الله عنه - قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ولا يحل للرجل أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام ". متفق عليه.» الخ
وفی حاشیتہ: قال: وأجمع العلماء على أن من خاف من مكالمة أحد وصلته ما يفسد عليه دينه أو يدخل مضرة في دنياه يجوز له مجانبته وبعده، ورب صرم جميل خير من مخالطة تؤذيه. وفي النهاية: يريد به الهجر ضد الوصل، يعني فيما يكون بين المسلمين من عتب وموجدة، أو تقصير يقع في حقوق العشرة والصحبة دون ما كان من ذلك في جانب الدين، فإن هجرة أهل الأهواء والبدع واجبة على مر الأوقات ما لم يظهر منه التوبة والرجوع إلى الحق، فإنه صلى الله عليه وسلم لما خاف على كعب بن مالك وأصحابه النفاق حين تخلفوا عن غزوة تبوك أمر بهجرانهم خمسين يوما الخ ( کتاب الآداب رقم الحدیث: 5027 ج 9 ص 230 ط: رشیدیہ)۔
و فی عمدۃ القاری: أي: هذا باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى، وقال المهلب: غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام، فمن كان جرمه كثيرا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته، كما جاء في كعب بن مالك وصاحبيه، وما كان من المغاضبة بين الأهل والإخوان فالهجران الجائز فيها ترك التحية والتسمية وبسط الوجه الخ ( کتاب الآداب، باب في بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى ج 22 ص 225 ط: دارالکتب )۔