السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ ہمارے مسمی محمد سہیل ولد محمد ایوب اور مسماۃ سحرش کی شادی کو تقریباً تین سال ہونے والے ہیں ، گزشتہ سال 2023 کو ہمارا لڑائی جھگڑا ہوا جس میں بیوی ناراض ہو کر گھر سے جارہی تھی، گلی میں نکلی تو میں نے اپنی بیوی کو ہاتھ سے پکڑ کر کہا کہ گھر چل ورنہ میں تمہیں طلاق دیدونگا۔
جبکہ بیوی مسماۃ سحرش کا بیان یہ ہے کہ ایک مرتبہ یہی مذکور جملہ کہا تھا اور تھوڑا آگے جا کر اس نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا کہ "میں نے تمہیں طلاق دی" جبکہ اس وقت ناراضگی اور غصہ کی وجہ سے میں نے گھر والوں کو کہا تھا، کہ میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں جبکہ حقیقت یہی ہے کہ ایک ہی مرتبہ یہ جملہ بولا تھا، اور اس واقعہ کے بعد شوہر نے راضی کرنے کی کوشش کی لیکن صراحتاً رجوع نہیں ہوا، اب ہم لوگ ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ مفتی غیب نہیں جانتا، بلکہ وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ اور جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور جھوٹ سے کام نہ لیا گیا ہو ، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے "گھر چل ورنہ تمہیں طلاق دیدوں گا" کہنے کے بعد اگر واقعۃً ایک بار" میں نے تمہیں طلاق دی " کے الفاظ کہے ہوں ، تین بار یہ الفاظ استعمال نہ کئے ہوں ، تو ایسی صورت میں سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی تھی ،جبکہ "طلاق دیدوں گا" کے الفاظ دھمکی اور وعدہِ طلاق ہو نے کی وجہ سے اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، چنانچہ شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل تھا، لیکن اگرشوہر نے دورانِ عدت زبانی طور پر یا عملاً بوس و کنار یا میاں و بیوی والا تعلق قائم کر کے رجوع نہ کیا ہو ، تو ایسی صورت میں عدت گزرنے پر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے، لہذا اب میاں بیوی باہمی رضامندی سے اگر ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں ، تو نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرنےکےبعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ آئندہ کے لیے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی الھندیۃ: طلاق میکنم طلاق میکنم و کرر ثلاثا طلقت ثلاثا بخلاف قولہ کنم لأنہ استقبال فلم یکن تحقیقا بالتشکیک وفی المحیط لو قال بالعربیۃ أطلقک لا یکون طلاقا إلا إذا غلب استعمالہ للحال الخ (کتاب الطلاق ج1 صـ 384 ط: ماجدیۃ)
و فی الدر المختار: (وفی أنت طالق) أو طلاق (أو أنت طالق طلاق یقع واحدۃ رجعیۃ الخ (کتاب الطلاق باب الصریح ج 3 صـ 251 ط: سعید)
و فی الھندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية اھ (کتاب الطلاق ج 1 صـ 470 ط:ماجدیۃ)
وفی الھدایۃ: و إذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث، فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ ، و بعد انقضائھا لان حل المحلیۃ باق، لان زوالہ معلق بالطلقۃ الثالثۃ الخ (کتاب الطلاق ج 2 صـ 92 ط: انعامیۃ)
وفی بدائع الصنائع: وأما ركن الرجعة فهو قول أو فعل يدل على الرجعة: أما القول فنحو أن يقول لها: راجعتك أو رددتك أو رجعتك أو أعدتك أو راجعت امرأتي أو راجعتها أو رددتها أو أعدتها، ونحو ذلك؛ لأن الرجعة رد، وإعادة إلى الحالة الأولى، ولو قال لما نكحتك أو تزوجتك كان رجعة في ظاهر الرواية(إلی قولہ) وأما الفعل الدال على الرجعة فهو أن يجامعها أو يمس شيئا من أعضائها لشهوة أو ينظر إلى فرجها عن شهوة أو يوجد شيء من ذلك ههنا على ما بينا،، ووجه دلالة هذه الأفعال على الرجعة ما ذكرنا فيما تقدم، وهذا عندنا، فأما عند الشافعي، فلا تثبت الرجعة إلا بالقول بناء على أصل ما ذكرناه والله - عز وجل – أعلم اھ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 183 ط: سعید)