السلام علیکم! میرے شوہر نے مجھے کل صبح فون پر غصے میں دو دفعہ کہا "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" پہلی دو بار میں اس نے میرا نام نہیں لیا بس کہا طلاق دیتا ہوں، تب میں نے اسے غصے میں کہا نام لے کر دو تو اس نے کہا تیسری بار کہا" میں انعم فاطمہ ولد قمر الزمان کو طلاق دیتا ہوں" میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک طلاق شمار ہوگی ؟ اور دو باقی ہیں ؟ رجوع کا کوئی طریقہ ہے یا نہیں، کیوں کہ یہ جو سب ہوا غصے میں ہوا۔
واضح ہوکہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،نیز طلاق واقع ہونے کے لئےبیوی کا نام لینا بھی ضروری نہیں ،بلکہ اگر بیوی کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا جائے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"تو اس سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو تو اس کی رو سےسائلہ پرتین طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،ا ب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ سائلہ ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی مسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے لئے ضروری ہے ) کےفوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ کے بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہرصورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تحقق کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ شرعیہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دے گا ، تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقد نکاح کرے یہ مکروہ تحریمی ہے اور اس پر حدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا جائز اور درست ہے ۔
کما فی رد المحتار: ويقع طلاق من غضب الخ (مطلب فی طلاق المدھوش، ج3، ص 244، ط: سعید)۔
و فیہ ایضاً: أن من وصل في الغضب إلى حالة لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه الخ (مطلب فيما لو حلف وأنشأ له آخر، ج 3، ص 369، ط: سعید)۔
و فی الدرالمختار:(قال: امرأته طالق ولم يسم وله امرأة) معروفة طلقت امرأته استحسانا الخ (کتاب الطلاق،ج3،ص292،ط:سعید)۔
و فی الھندیۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔