کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ!
میرا نکاح آج سے تقریبا تیس سال قبل ہوگیا تھا، ابھی مئی کے مہینے میں ہمارے درمیان کچھ مسائل پیدا ہوئے ، جس میں طلاق کے الفاظ بولے گئے ہیں، جس میں میاں بیوی کا اختلاف ہے ۔
بیوی مسماۃ ’’فرخندہ بنت محمد حسیب‘‘ کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کہونگی سچ کہونگی اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اسکا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا۔
میرے شوہر نے اتوار کی صبح یہ الفاظ کہے کہ: تم میرے پاس آج رات مطلب پیر والی رات کو نہیں آئی یا کبھی بد تمیزی کی تو تم کو طلاق ہوجائیگی، اور اسی طرح اگر اگلے ہفتے نہ آئی تو دوسری طلاق اور اس سے اگلے ہفتے نہ آئی تو تیسری طلاق پڑجائیگی، تین طلاقیں پڑجائیگی، اور اچھا ہے میری جان چھوٹ جائیگی، اور اس بات کو آج تیسرا اتوار ہے، میں اپنے شوہر کے پاس نہیں گئی، نیز اسکے بعد پیر کی صبح میرے شوہر نے میرے بھائی ’’حافظ محمد فرید حسیب‘‘ کو فون کیا اور کہا کہ آپکے علم میں ہوگا کہ ایک ہوگئی ہے، اب آپ سمجھائیں ۔ اس کے کچھ دیر بعد میسج کیا ، میسج کے الفاظ یہ تھے: میں بھول گیا تھا کہ تم اس ہی بھائی کے پاس ہو مجھے معاف کرنا ، تمہاری ساری فیملی ایک جیسی ہے، میں تمہاری بہن کو طلاق دیتا ہوں اسکو میرے گھر سے لے جاو فوراً , اور اسکے فوراً بعد یہی میسج دوبارہ آیا، پھر میرا بھائی اور بہن مجھے وہاں سے لے آئے ۔
شوہر مسمی ’’فیصل معیز بن معیز الدین قریشی‘‘ کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہونگا سچ کہونگا اگر میں نے غلط بیانی یا جھو ٹ سے کام لیا تو اسکا وبال اور عذاب مجھ پر ہوگا ، میں نے صرف اتوار کے دن ایک ہی مرتبہ یہ بات کی تھی کہ اگر رات کو میرے پاس نہ آئی یا بدتمیزی کی تو طلاق ہوجائیگی، اور پھر رات کے وقت میری بیوی سورہی تھی ، میں ان کے کمرے میں گیا اور اللہ سے معافی مانگی، اور اپنی بات واپس لی ، اسکے علاوہ وہ ’’اگلے ہفتہ نہ آئی، اگلے ہفتہ نہ آئی‘‘، والی مزید کوئی بات میں نے نہیں کی ، نیز انکے بھائی کو کال پر صرف اتنا کہا کہ آپ کے علم میں ہوگا کہ ایک ہوگئی ہے ، میں نے طلاق کا لفظ نہیں بولا کہ ایک طلاق ہوگئی ہے، بس اتنا کہا کہ ایک ہوگئی ہے ، اور یہ صرف میں نے دباؤ ڈالنے کیلئے کہا تھا کہ یہ اپنی بہن کو سمجھائے ، اسکے علاوہ میسج میں نے ایک ہی کیا تھا، لیکن اس کی کنفرمیشن نہیں آئی تو میں نے دوبارہ بعینہ وہی میسج سینڈ کردیا ، کوئی اور طلاق کی نیت نہیں تھی۔
اب معلو م یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں زوجین مسماۃ ’’فرخندہ‘‘ اور مسمی ’’فیصل ‘‘ کا اتنی بات پر تو اتفاق ہیں کہ:
(1) خاوند نے بیوی سے کہا کہ ’’ تم میرے پاس رات کو نہیں آئی یا کبھی بد تمیزی کی تو تم کو طلاق ہوجائیگی‘‘اور(2) اس پر کہ خاوند نے طلاق والا میسج دو بار ہی اپنی بیوی کے بھائی کو بھیجا تھا۔
جبکہ ’’اگلے ہفتہ نہ آئی‘‘ والی بات پر دونوں کا اختلاف ہہے، لہذا قطعِ نظر اس سے کہ اختلاف والی بات میں کس کا بیان درست ہے اور کس کا غلط ، جب خاوند نے اپنی بیوی سے کہہ دیا کہ’’ اگر تم میرے پاس اس رات کو نہیں آئی یا کبھی بدتمیزی کی تو تم کو طلاق ہوجائیگی‘‘ ، تو اسکی وجہ سے ایک طلاق معلق ہوچکی تھی ، چنانچہ اسکے بعد جب بیوی اسی رات کو خاوند کے پاس نہیں آئی (اگرچہ خاوند کے بیان کے مطابق وہ خود بیوی کے پاس اس کے کمرے میں چلا گیا تھا) تو اس سے ایک معلق طلاق واقع ہوگئی، اس کےبعد جب خاوند نے اپنی بیوی کے بھائی کو یہ میسج دو بار بھیجا ’’ میں بھول گیا تھا کہ تم اس ہی بھائی کے پاس ہو مجھے معاف کرنا ، تمہاری ساری فیملی ایک جیسی ہے، میں تمہاری بہن کو طلاق دیتا ہوں اسکو میرے گھر سے لے جاؤ فورا ‘‘ تو اس سے باقی دو طلاقیں بھی واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عدت کے بعد لڑکی کسی اور جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
فی الدر المختار للعلامة الحصكفي : [فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين اه
وفي حاشية بن عابدين : (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد اه (3/293)