کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسمی سید فیضان اور مسماۃ ۔۔۔۔۔کا نکاح عرصہ پانچ سال قبل ہوا تھا،اور ہم دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے تھے،کچھ عرصہ قبل مسمی فیضان کا ایکسیڈنٹ ہوا،وہ گھر میں زخمی حالت میں تھا،میں مسماۃ ۔۔۔نے کسی کے بہکاوے میں آکر طلاق نامہ بنواکر لائی اور شوہر کے علم میں لائے بغیر اس کے سائن بھی خود ہی کردیئے،اور رشتہ دار وغیرہ کو بتادیا کہ شوہر نے مجھے طلاق دیدی ہے،میں حلفیہ اقرا ر کرتی ہوں کہ شوہر کو بتائے بغیر میں نے طلاق نامہ بنوایا اور اس پر سائن کیا اب ہم دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں لیکن رشتہ دار اس طلاق نامہ کی وجہ سے ہمیں مطلقہ کہہ رہے ہیں۔
جبکہ شوہر بھی حلفیہ اقرار کرتا ہے کہ میں نے بیوی کو نہ طلاق نامہ بنوانے کا بولا اور نہ سائن کیا،جب بیوی نے طلاق نامہ بنواکر سائن کردیئے تو مجھے طلاق نامہ دکھایا،اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ ہم میاں بیوی کی حیثیت سے رہ سکتے ہیں؟
سائلہ کا شوہر کے علم میں لائے بغیر طلاق نامہ بنواکر اس پر شوہر کے دستخط کرنا خیانت اور جھوٹ کے زمرے میں آتا ہے،جوکہ سخت گناہ ہے،جس پر سائلہ کو اپنے شوہر سے معافی تلافی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور بصدقِ دل توبہ واستغفار لازم ہے،تاہم چونکہ شریعت نے طلاق کا معاملہ مرد کے سپرد کیا ہے،اس لیے صورتِ مسئولہ میں درج بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے خود طلاق نامہ بنوانے کا نہیں کہا ہو اور نہ ہی خود اس پر دستخط کیے ہوں اور نہ بعد میں طلاق کے واقع ہونے کا اقرار کیا ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کی طرف سے از خود طلاق نامہ بنوانے اور اس پر دستخط کرنے سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار ہے اور دونوں میاں بیوی کی حیثیث سے آپس میں زندگی گزارسکتے ہیں،تجدیدِ نکاح کی ضرورت نہیں۔
کما فی رد المحتار تحت (قولہ لا اقرارہ بالطلاق) ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ((ج3 ص236 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفیہ أیضاً: وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اهـ ملخصا الخ (ج3 ص247 کتاب الطلاق ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: وكذلك كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع به الطلاق إذا لم يقر أنه كتابه كذا في المحيط والله أعلم بالصواب. (ج1 ص279 کتاب الطلاق،الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ط: ماجدیۃ)۔