گزشتہ چھ ماہ قبل میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہو ں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ بعد میں میں ڈاکٹر سائکا ٹرسٹ کے پاس گیا اور ایک عالم نے کہا کہ پچھلے سال سے تم پر کالے جادو کا اثر ہوا ہے ، میں صرف کالے جادو سے طلاق کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں، جائز یا نا جائز ؟
واضح ہوکہ جادو کے اثر سے کسی شخص کے اقوال و افعال شرعی اعتبار سے اسی وقت غیر معتبر مانے جاتے ہیں جب ا س کے ہوش و حواس اس طور پر متا ثر ہوجائیں کہ وہ کسی چیز میں تمیز نہ کر سکے اور اسے مخبوط الحواس یا دیوا نگی کی کیفیت سے گردانا جاسکے ،لیکن اگر اسکے ہوش و حواس اس قدر متا ثر نہ ہوں ، بلکہ وہ اشیاء میں تمیز کر سکتا ہے اور اس کو اپنے افعال و اقوا ل کا علم حاصل ہو تو ایسے شخص کے اقوال و افعال شرعاً معتبر مانے جاتے ہیں ۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “ تین مرتبہ بولنے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثا بت ہوگئی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور بغیر حلالۂ شرعیہ دوبارہ با ہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سےعلیحدگی اختیا ر کر یں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنا ہ گار ہوں گے جبکہ عورت ایام ِعدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی الھندیۃ: یقع طلاق کل زوج اذا کان بالغا عاقلا سواء کان حرا او عبدا طائعا او مکرھا کذا فی الجوھرۃ النیرہ الخ( کتاب الطلاق، فصل فیمن یقع الخ، ج 1، ص 353، ط: ماجدیہ)۔
و فھا ایضا: و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ الخ( کتاب الطلاق، فصل فی ما تحل بہ المطلقہ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔