میری شادی کو 10 سال ہوگئے ہیں، میرا ایک بیٹا ہے 5 سال کا، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ ایک سال پہلے میرے شوہر کا کسی دوسری عورت سے تعلق بن گیا، بہت جھگڑوں کے بعد انہوں نے کہا کہ میرا اس کے ساتھ ناجائز تعلق ہے، اس لئے نہیں چھوڑ سکتا ہے، نکاح کرلیا ہے، جب کہا کہ نکاح نامہ دکھائیں تو کہا کہ دکھا دوں گا،لیکن ٹال مٹول ہوئی، پھر کچھ عرصہ بعد جب میرے میکے بات گئی تو کہا کہ نکاح نہیں کیا ہے، آج تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ نکاح کیا ہے یا نہیں، لیکن اس بیچ ہر بات پر مجھے طلاق کی دھمکی دی ہے، کچھ مہینے پہلے اس عورت نے مجھ سے رابطہ کیا کچھ سوالات کیے کہ تم اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہو؟ تعلقات میں ہو جس سے واضح ہورہا تھا کہ اس سے جھوٹ بولے گئے ہیں ، میرے متعلق اس نے یہاں تک کہا کہ میں کھڑے کھڑے تمہیں طلاق کراسکتی ہوں، ایک ہفتہ پہلے میرے شوہر نے ایک بہت معمولی بات پر میری ساس کے سامنے دو دفعہ مجھے طلاق دیدی یہ کہہ کر" کہ میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں" بہت ٹھہر ٹھہر کر یہ الفاظ کہےدو دفعہ میری ساس کے ہاتھ جوڑنے پر رکے، اب مجھے بتائیں میں کیا کروں، میں تین مہینے کی عدت میں ہوں، میں نے میکے میں کچھ نہیں بتایا ہے کیا میں عدت میں میکے جاسکتی ہوں، رجوع کا طریقہ بتائیں کیا بات کرلی جائے تو رجوع ہوجاتا ہے یا ہمبستری ضروری ہے؟ طلاق ایک شمار ہوگی یا دو، باقی آگے کیا گنجائش ہے، میں اپنی کوئی بات میکے بتاؤں تو طلاق کی دھمکی دی جاتی ہے، مجھے کیا کرنا چاہیئے، کیا مذہب نے میرے لئے کوئی راستہ رکھا ہے؟
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اور اس میں کسی قسم کی دروغ گوئی کا سہارا نہ لیا گیا ہو تو سائلہ کے شوہر کا واقعۃً یوں نکاح کے بغیر کسی نامحرم عورت کے ساتھ رہنا اور تعلقات قائم کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے جس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار اور آئندہ کے لئے ایسے کاموں سے اجتناب لازم ہے، جبکہ سائلہ کے شوہر نےاگر واقعۃً مذکور الفاظ ( میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں") کہہ دیے ہوں تو اس سے سائلہ پر دو رجعی طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،جس کے بعد شوہر کو رجوع کا اختیار حاصل ہے،چنانچہ دورانِ عدت اگر شوہر زبانی طورپر رجوع کرلے (مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ الفاظ کہہ دے ) یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چھولے تو اس سے رجوع ہو جائیگا اور دونوں کا نکاح بدستور بر قرار رہے گا،لیکن اگر شوہر ایامِ عدت میں رجوع نہ کرے تو عدت گزرنے سے یہ دو رجعی طلاقیں،طلاق بائن بن جائیں گی اور اس سے دونوں کا نکاح ختم ہو جائیگا،اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی،اس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح لازم ہو گا ،بہر صورت آئندہ کیلئے شوہر کو فقط ایک طلاق کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط لازم ہے ۔
کما فی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض اھ (2/254)
وفیہ ایضاً :والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ )قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة اھ (2/254)۔