کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ تا جن بی بی کا نکاح آج سے تقریباً 36 سال قبل مسمی عبد الرشید کے ساتھ ہو گیا تھا ، کچھ عرصہ سے ہم دونوں کے درمیان کچھ طلاق کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، جس کے بارے میں مسماۃ تاجن بی بی کہتی ہوں کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر حلفیہ بیان دے رہی ہو ، کہ میں جو کچھ کہونگی سچ کہونگی اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا۔ آج سے تقریباً ساڑھے تین سال قبل بھی میرے شوہر نے ایک مرتبہ مجھے طلاق دی تھی ، الفاظ طلاق یہ تھے کہ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " اس وقت میں نے اپنے بڑے بیٹے کو بھی بتا دیا تھا ، پھر اس نے اپنے والد سے پوچھا تو اس نے انکار کیا اور کہا کہ میں نے" طلاق دیدوں گا " بولا تھا ، اس کے بعد بھی ہم بدستور میاں بیوی کی طرح رہتے رہے ، ابھی دو دن پہلے پھر لڑائی جھگڑے کے دوران میرے شوہر نے بھتیجے کو فون کیا کہ آکر اپنی پھو پھی کو لے جاؤ ، میں اسے طلاق دے رہا ہوں، اس کے بعد میرے شوہر نے یہ کہا کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، جبکہ شوہر مسمی عبد الرشید کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں جو کچھ کہوں گا سچ کہوں گا، اگر میں نے جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اس کا عذاب مجھ پر ہو گا، آج سے ساڑھے تین سال قبل میں نے یہ الفاظ بولے تھے " طلاق دیدوں گا" دیتا ہوں کا لفظ میں نے نہیں بولا اور ابھی حالیہ لڑائی میں میں نے بیگم کے بھتیجے کو کال پر کہا تھا کہ تم اپنے ابو کو لیکر آؤ ، میں تمہاری پھوپھی کو طلاق دیدوں گا ، اس کے بعد میں نے ایک مرتبہ " طلاق دیتاہوں " کا لفظ بولا ہے ، بھتیجے محمد ارشد کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ اس نے مجھے کال پر کہا کہ ارشد میں تمہاری پھوپھی کو طلاق دے رہا ہوں اسے لیجاؤ، اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ہیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
مفتی غیب نہیں جانتا ، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے ، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورتِ مسئولہ میں میاں بیوی کے درمیان ہونے والے حالیہ لڑائی جھگڑے کے دوران چونکہ شوہر ایک مرتبہ "طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ کہنے کا اقراری اور معترف ہے ، اس لئے بیوی پر ایک طلاق واقع ہو چکی ہے، جبکہ حالیہ واقعہ کے علاوہ تقریباً ساڑے تین سال قبل شوہر کی طرف سے اسے " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہنے اور حالیہ لڑائی کے بعد بیوی کے بھتیجے کو بذریعہ فون یہ الفاظ " آکر اپنی پھو پھی کو لے جاؤ ، میں اسے طلاق دے رہا ہوں " کہنے کی بھی دعویدار ہے جبکہ شوہر اس سے انکاری ہے ، لیکن بیوی کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے شرعی شہادت موجود نہیں اور میاں بیوی میں سے ہر ایک اپنے اپنے بیان پر حلف اٹھانے اور قبر و آخرت کی عذاب دہی کے لئے تیار ہے ، جب ایسی صورت در پیش ہو جائے کہ بیوی تین طلاقوں کی دعویدار ہو ، مگر اس کے پاس شرعی شہادت موجود نہ ہو اور شوہر طلاق دینے سے انکاری ہو تو ایسی صورت میں "المرأۃ کا لقاضی " کے اصول کو مدِنظر رکھتے ہوئے بیوی پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ، تاہم یہ معاملہ اگر قاضی (جج) کی عدالت میں چلا جائے اور قاضی شرعی گواہ نہ ہونے کی وجہ سے شوہر کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دے کر بیوی کو اس کے ساتھ روانہ کر دے، تو ایسی صورت میں بیوی اگر چہ گنہگار نہ ہو گی، مگر پھر بھی اسے چاہیئے کہ حتی الامکان شوہر کو اپنے اوپر قدرت نہ دے ، بلکہ طلاق بالمال یا خلع کے ذریعہ اپنے شوہر سے خلاصی حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے۔
كما في البحر الرائق : والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه ( إلى قوله) أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه الخ ( باب الطلاق الصريح الخ، ج ۳، ۲۵۷، ط: ماجدية )-
و في الفتاوى الهندية : والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندنا الخ ( الباب الثاني في إيقاع الطلاق ، ج 1، ص 354، ط: ماجدية )
و في رد المحتار : تحت (قوله كا لقضاء باليمين الكاذبة ) قالوا لو ادعت أن زوجها أبانها بثلاث فأنكر فحلفه القاضي فحلف والمرأة تعلم أن الأمر كما قالت لا يسعها المقام منه ولا أن تأخذ من ميراثه شيئا (إلى قوله ) و في الخلاصة : ولا يحل وطؤها إجماعاً بحر الخ (مطلب في القضاء بشهادة الزور، ج ۵، ص 4۰۵ : سعيد)-
و في فتاوى قاضي خان : وهم أصناف ، صنف لا يكون كلامهم شهادة لعدم الأهلية وأهلية الشهادة إنما تكون بالعقل الكامل والضبط والولاية والقدرة على التمييز بين المدعي والمدعى عليه فلا تقبل شهادة الصبيان والمجانين ( إلى قوله) فلا ينعقد النكاح بحضرتهم وكذلك شهادة النساء وحدهن الخ ( كتاب الشهادة ، باب فيمن لا تجوز شهادتهم ، ج ۵، ص 4۲۱ ، ط : رشيدية) -