کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم پراپرٹی ڈیلنگ کا کام کرتے ہیں، جس میں ہم فروخت کنندہ اور خریدار ہر ایک سے دو / دو فیصد کمیشن لیتے ہیں، لیکن ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کے ایک بیان میں سنا ہے کہ پراپرٹی ڈیلر کا دونوں طرف سے کمیشن لینا حرام ہے، آپ رہنمائی فرمائیں کہ یہ بات درست ہے یا نہیں ؟ یاد رہے کہ ہمارا (پراپرٹی ڈیلر ) کا کام صرف فروخت کنندہ اور خریدار کا آپس میں رابطہ کروانا ہے، کسی کی طرف سے وکالت کرنا نہیں ہے، اور پراپرٹی ڈیلر فروخت کنندہ اور خریدار دونوں سے کمیشن لینے کے بعد ہر ایک کی طرف سے پوری ذمہ داری لیتا ہے ، اس کے بعد اگر فروخت کنندہ کی جانب سے کاغذات وغیرہ میں کوئی مسئلہ پیدا ہو جائے یا خریدار پیسے نہ دے تو ذمہ داری پراپرٹی ڈیلر پر عائد ہوتی ہے لہذا اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے کے بعد دونوں طرف سے کمیشن لینا تو بنتا ہے ، آپ رہنمائی فرمائیں کہ ایسا کرنا درست ہے یا نہیں؟
سائل نے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کا مذکور کلپ ارسال نہیں کیا کہ اسے سن کر اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم سائل اگر اپنے اس عمل پر مالک اور خریدار دونوں سے طے شدہ کمیشن وصول کرتا ہو تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الدرالمختار و حاشیۃ ابن عابدین: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية.اھ ۔
(قوله: فأجرته على البائع) وليس له أخذ شيء من المشتري؛ لأنه هو العاقد حقيقة شرح الوهبانية وظاهره أنه لا يعتبر العرف هنا؛ لأنه لا وجه له. (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين. (ج۴، ص۵۶۰)
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1