طلاق

طلاق سے متعلق حکم

فتوی نمبر :
73679
| تاریخ :
2024-06-05
معاملات / احکام طلاق / طلاق

طلاق سے متعلق حکم

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ میں نے گزشتہ 2024/05/04 کو کسی بات پرغصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو ڈرانے کے لئے یہ الفاظ استعمال کیےکہ "میں تم کو طلاق دے دونگا"پھر بھی وہ تکرار سے باز نہیں آئی تو میں نے ان الفاظ میں طلاق دی "میں تم کو طلاق دیتا ہوں"صرف ایک مرتبہ ،میری بیوی نے اپنے میکے فون کیا اور میری ساس اور خسر آکر اس کو اپنے گھر لے گئے،وہاں جاکر میری بیوی نے والدین کو بتایا کہ اس نے مجھے تین طلاق دی ہے،لیکن بعد میں میرے ساتھ میسج میں رابطہ کرتی رہی اور مجھے بتایا کہ میں غصہ کی حالت میں تھی اور میں نے ان کو بتایا کہ اس نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں ،لیکن چونکہ میں والدین کو بتاچکی ہوں،اس لئے والدین کی عزت کی خاطر میں جھوٹی قسم بھی کھاسکتی ہوں،چاہے کچھ بھی ہوجائے،پھر اس نے یہ بھی بتایا کہ اگر ایک دے دی ہےتو دو اور دے دیں ،تاکہ تین پوری ہوجائے۔
آپ حضرات رہنمائی فرمائیں کہ میری بیوی کی ان باتوں کی بناء پر تین طلاق واقع ہوجائنیگی ، جبکہ میں نے صرف ایک طلاق دی ہے،اور عدت بھی میرے گھر میں نہیں گزاررہی،مسئلہ کے حل کے لئے میرے بڑوں نے مسجد کے امام صاحب سے رجوع کیا تو امام صاحب نے جامعہ بنوریہ جانے کا مشورہ دیا،ہم جب وہاں گئےاور لڑکی والوں کو بلایا تو وہ نہیں آئے،پھر دونوں خاندان والے آپس میں بیٹھے، اس مجلس میں میرے سسر اور دیگر لوگوں نے کہا کہ نکاح پڑھانے والا امام صاحب ہی فیصلہ کرےگا،امام صاحب نے لڑکی کی باتوں کی تصدیق کرنے کے لئے موقع فراہم کرنے کو کہا،انہوں نے اقرار کیا وقت بھی دیا،پھر بھی تصدیق نہیں کروائی،جبکہ میں اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں،اور اسی حالت میں میسج کے ذریعہ رجوع بھی کرلیا،دوسری بات یہ ہے کہ میرا چھوٹا بیٹا ہے، مجھے اس سے ملنے بھی نہیں دے رہے ہیں،
کیا میری بیوی جدا ہوگئی؟کیا میری بیوی کو طلاق ہوگئی؟اور مجھے رجوع کا حق نہیں ہے کیا؟بیٹا میرا نہیں ہے کہ مجھے ملنے نہیں دیا جاتا؟
شریعت کے مطابق رہنمائی فرماکر شریعت پر عمل کا موقع عطا فرمائیں۔
نوٹ: میری بیوی نے میرے ساتھ جو میسج سے رابطہ کیا ہے،وہ میسج بھی چسپاں کرتا ہوں، تاکہ میری بات کی تصدیق ہوجائے۔
مسمی فرمان کا حلفیہ بیان :میں فرمان ولد فضل الرحمن اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں کہ میں نے اپنے تحریری بیان میں جو کچھ لکھا ہے،سچ لکھا ہے،اگر میں نے اس میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا ہو تو اس کا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا۔
بیوی مسماۃ ثانیہ بنت نور الھادی کا حلفیہ بیان:میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں کہ میں جو کچھ کہونگی ،سچ کہونگی،اگر میں نے اپنے بیان میں جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لیا تو اس کا عذاب مجھ پر ہوگا کہ میرے شوہر مسمی فرمان نے تین مرتبہ یہ جملہ بولا تھاکہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،"زہ تالہ طلاق درکوم "
موقع پر موجود والد کا حلفیہ بیان یہ ہے کہ ایک مرتبہ طلاق کی دھمکی دی تھی،کہ میں تمہیں طلاق دیدونگا،خاموش ہوجاؤ"زہ بہ تالہ طلاق درکم،غلی شہ "اور ایک مرتبہ بولا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"زہ تالہ طلاق درکوم"اس طرح موقع پر موجود فرمان کی والدہ کو بھی دار الافتاء بلایا گیا،ان کاحلفیہ بیان بھی یہی ہے کہ ایک مرتبہ طلاق کی دھمکی دی تھی،"زہ بہ تالہ طلاق درکم"میں تمہیں طلاق دے دونگا،اور دوسری مرتبہ یہ جملہ بولا تھا،"زہ تالہ طلاق درکوم"میں تمہیں طلاق دیتاہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال کے ساتھ منسلکہ میسجز کی کاپیاں مطابق اصل ہوں،اس میں کسی قسم کی جعل سازی اور دھوکہ دہی سے کام نہ لیا گیا ہو،تو سوال میں ذکر کردہ بیان اور ان منسلکہ میسجز کا جائزہ لینے کے بعد سائل کی بیوی مسماۃ"نورصبا" کا اس موقعہ پر تین طلاقوں کے حلفیہ بیان میں جھوٹا ہونا معلوم ہورہا ہے،جس کا اقرار خود ان کے ارسال کردہ میسجز میں بھی موجود ہے،لہذا شرعاً اس جھوٹی قسم کا کوئی اعتبار نہیں،بلکہ بیوی مسماۃ"نور صبا" کا گھر والوں کے سامنے غلط بیانی سے کام لینا اور پھر اس پر اصرار کرتے ہوئے جھوٹی قسم کھانا ناجائز اور حرام تھا،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے،اپنے اس فعل پر اسے بصدقِ دل توبہ واستغفار کرنے کے ساتھ ساتھ سچ بیان کرتے ہوئے اپنا گھر بسانے کی فکر کرنی چاہیے۔
جبکہ سائل مسمی فرمان بن فضل الرحمن نے اس موقع پر طلاق کی دھمکی دینے کے بعد مذکور الفاظ "زہ تالہ طلاق درکوم "(میں تمہیں طلاق دیتا ہوں)ایک بار کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوچکی تھی،جس کے بعد سائل کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا،چنانچہ اگر سائل نے دورانِ عدت قولاً یا تحریراً "میں تم سے رجوع کرتا ہوں"جیسے الفاظ سے بیوی سے رجوع کرلیا ہو،تو شرعاً بھی یہ رجوع درست ہوکر میاں وبیوی کا نکاح بدستور برقرار ہے،اور آئندہ کے لیے ان کا میاں وبیوی کی طرح زندگی بسر کرنا بھی درست ہے۔
نیز میاں وبیوی کے درمیان ناراضگی کے وقت لڑکی کے اہلِ خانہ کا والد کو اپنے بچے سے ملنے نہ دینا شرعاً ناجائز اور قطع رحمی پر مبنی عمل ہے،جس سے آئندہ کے لیے احتراز لازم ہے،بصورتِ دیگر سائل کو قانونی چارہ جوئی کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدر المختار: (غموس) تغمسه في الإثم ثم النار، وهي كبيرة مطلقا، لكن إثم الكبائر متفاوت نهر (إن حلف على كاذب عمدا) ولو غير فعل أو ترك كوالله إنه حجز الآن في ماض (كوالله ما فعلت) كذا (عالما بفعله أو) حال (كوالله ما له علي ألف عالما بخلافه والله إنه بكر عالما بأنه غيره) وتقييدهم بالفعل والماضي اتفاقي أو أكثري (ويأثم بها) فتلزمه التوبة.اھ(ج3 ص705 کتاب الأیمان والنذور ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز اھ(ج1 ص354 کتاب الطلاق،الباب الثانی،الفصل الاول ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة اھ(ج1 ص468 کتاب الطلاق،الباب السادس فی الرجعۃ ط: ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابراہیم اسماعیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73679کی تصدیق کریں
0     602
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات