کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندر جہ ذیل مسئلہ میں کہ میرا نکاح آج سے دو سال قبل مسماۃ سمیرہ بنت واہب داد سے ہوا تھا، کچھ گھر یلو ناچاقی اور بیوی کی طرف سے نا راضگی اور طلاق کے مطالبہ پر میں نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیے ہیں، الفاظ طلاق یہ تھے ۔" طلاقہ ئے، طلاقہ ئے، طلاقہ ئے" طلاق (مطلقہ) ہو، جبکہ بیوی مسماۃ سمیرہ کا بیان ہے کہ چھ مرتبہ طلاق کے الفاظ بو لے تھے، اور الفاظ میں یہ بھی بولا تھا کہ"پہ ما طلاقہ ئے"(مجھ پر طلاق ہو) اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں، اور آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
سائل نے اپنی بیوی کے طلاق کے مطالبہ پر جب یہ الفاظ " طلاقہ ئے، طلاقہ ئے، طلاقہ ئے" یعنی (طلاق والی ہو، طلاق والی ہو، طلاق والی ہو بہ الفاظِ دیگر "مطلقہ ہو ") کہہ دیے ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، جبکہ مزید طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو گئی ہیں، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، و رنہ دونوں سخت گنہگار ہونگے، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
وفي الهندية : إذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط ان كانت مدخولة طلقت ثلاثا وان كانت غير مد خولة طلقت واحدة الخ (ج1،ص 355، ط:ماجدیۃ)۔