امامت و جماعت

شادی ہال میں نماز و امامت کا حکم

فتوی نمبر :
73915
| تاریخ :
2024-06-13
عبادات / نماز / امامت و جماعت

شادی ہال میں نماز و امامت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلئے کے بارے میں کہ:
میں ایک جگہ شادی ہال میں امام ہوں، وہاں ساٹھ ستر افراد ویٹر اور شادی ہال کا عملہ ہے، ان کو نمازیں پڑھاتا ہوں ، ساتھ ساتھ جب فنكشن ہو ،تو شادی میں شریک افراد بھی نماز میں شرکت کرتے ہیں، نماز کے لئے کوئی مسجد نہیں بس جہاں جگہ میسر ہو شادی ہال میں وہاں نماز پڑھتے ہیں ، شادی ہال میں ڈھول باجے وغیرہ بھی ہوتے ہیں لیکن نماز کے دوران وہ ڈھول باجے بالکل سختی سے بند کئے جاتے ہیں، انتظامیہ کے جانب سے اب کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ شادی ہال میں نماز پڑھنا جائز نہیں اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہاں امامت بالکل جائز نہیں ہے ،مجھے اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔ جزاکم اللہ خیرا !
نوٹ: مستفتی سے فون پر رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جو لوگ شادی ہال میں نماز اور امامت کے عدم جواز کا قول اختیار کرتے ہیں، وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ شادی ہال گانے بجانے اور فسق کی جگہ ہےحظ،اس لیے یہاں امامت جیسے محترم فریضہ کی ادائیگی درست نہیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ نماز کی صحت کے لئے مکان سے متعلق صرف اتنا ضروری ہے کہ جہاں نماز ادا کی جارہی ہے وہ جگہ نجاست اور ناپاکی سے پاک صاف ہو۔
لہذا صورت مسئولہ میں شادی ہال میں ڈھول باجے بجانا اگرچہ ناجائز عمل ہے جس سے اجتناب لازم ہے، تاہم اسکی وجہ سے وہاں باجماعت نماز کی ادائیگی پر فرق نہیں پڑتا ، بلکہ جس شادی ہال میں جہاں نماز ادا کی جارہی ہے ،وہ جگہ اگر پاک ہو اور نماز کے اوقات میں قرب وجوار میں ڈھول باجے بجانے پر پابندی ہے ،جیسا کہ سوال سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے تو ایسی جگہ باجماعت نماز پڑھنا نا یہ کہ صرف جائز ہےبلکہ قریب میں مسجد نہ ہونے کی وجہ سے شادی ہال کے اسٹاف اور شادی میں شریک افراد کیلیے باجماعت نماز کا موقع فراہم کرنے کی وجہ سے دوہرے اجر کا باعث بھی ہے، لہذا انتظامیہ کے لوگوں کا شادی ہال میں امامت کے عدم جواز کی بات کرنا شرعی مسائل سے ناواقفیت پر مبنی ہے، انکو چاہیئے کہ اس طرح کی باتوں سے احتراز کریں ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار للعلامة الحصكفي: باب شروط الصلاة هي ثلاثة أنواع (إلى قوله) (هي) ستة (طهارة بدنه) (إلى قوله) (ومكانه) أي موضع قدميه أو إحداهما إن رفع الأخرى وموضع سجوده اتفاقا في الأصح اھ (1/ 403)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73915کی تصدیق کریں
1     994
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات