میرا سوال یہ ہے کہ میں شک اور وساوس کی بیماری میں پچھلے 3 ماہ سے مبتلاء ہوں، میرے دماغ میں ہر وقت طلاق کا وہم اور شک طاری رہتا ہے، میری آپ سے یہ گزارش ہے کہ مجھے تحریری طور پر ایک پرچہ بنا کر دیا جائے، جس میں یہ ہو کہ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا، اور اگر میری زبان سے غیر اختیاری طور پر طلاق کے الفاظ ادا ہو جائیں،اور میری نیت طلاق کی نہ ہو، تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوجا ئے گی؟ اور اگر کبھی اپنی مرضی اور اختیار سے طلاق دیدوں تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟
سائل نے اگر نکاح کے بعد ابھی تک طلاق کے الفاظ نہ کہے ہوں تو سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، البتہ جب سائل طلاق کے الفاظ کہہ دے تو اس وقت طلاق کے الفاظ، سائل کی ذہنی کیفیت اور موقع محل کا جائزہ لے کر طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کا حکم لگایا جاے گا۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله الخ (ج4 صـ224 کتاب الجھاد باب المرتد ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً: أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ الخ (ج3 صـ250 کتاب الطلاق ط: سعید)۔