السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
سعید اور اس کی بیوی کے درمیان کسی معاملے پر جھگڑا ہوا، پھر سعید نے اپنے سالے اسلم کو لکھ کر بھیجا کہ تمہاری بہن ہندہ کو" إن شاء اللہ طلاق، إن شاء اللہ طلاق،إن شاء اللہ طلاق إن شاء اللہ " اب سعید کہتا ہے کہ میرا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا، اسی وجہ سے تو میں نے ساتھ إن شاء اللہ لگایا ،کیوں کہ میں نے علماء سے سنا ہوا تھا کہ إن شاء اللہ سے طلاق نہیں ہوتی۔
اب کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ آیا سعید کی بیوی کو طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟ تحریری طور پر جواب چاہیئے ۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہو تا ہے ، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونیکی اصل ذمہ داری سائل پر ہوتی ہے۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی بھی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ مسمی سعید نے اپنے سالے اسلم کو لکھ کر بھیجا کہ تمہاری بہن ہندہ کو" إن شاء اللہ طلاق، إن شاء اللہ طلاق، إن شاء اللہ طلاق إن شاء اللہ " تو اس سے مسمی سعید کی بیوی مسماۃ ہندہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی دونوں میاں و بیوی کی طرح ساتھ رہ سکتے ہیں تاہم آئندہ اس طرح کے الفاظ کہنے سے بھی احتراز کیا جائے۔
کما فی الھندیۃ: إذا قال لامرأته: أنت طالق إن شاء الله - تعالى - متصلا به لم يقع الطلاق وكذا إذا ماتت قبل قوله إن شاء الله تعالى كذا في الهداية بخلاف ما إذا مات الزوج بعد قوله: أنت طالق قبل قوله إن شاء الله تعالى وهو يريد الاستثناء حيث يقع الطلاق وإنما يعلم ذلك فيما إذا قال قبل الإيقاع إني أطلق امرأتي وأستثني كذا في الكفاية اھ (کتاب الطلاق ج 1 صـ 454 ط: ماجدیۃ)
وفی الدر المختار: (قال لها أنت طالق إن شاء الله متصلا) إلا لتنفس أو سعال أو جشاء أو عطاس أو ثقل لسان أو إمساك فم أو فاصل مفيد لتأكيد أو تكميل أو حد أو طلاق، أو نداء كأنت طالق يا زانية أو يا طالق إن شاء الله صح الاستثناء بزازية وخانية الخ (کتاب الطلاق ج 3 صـ 366-367 ط: سعید)