گزارش عرض یہ ہے کہ جناب ! میرا ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں، میرا ایک گھر ہے جسکی مالیت تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ اس مالیت سے%75بیٹے کو دوں، %15بیٹیوں میں اور اپنی زوجہ کو %15 دینا چاہتا ہوں ،اس فیصلے سے شرعی نقطۂ نظر سے میری رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام ذاتی مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کرسکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہٰذا سائل پر بھی اپنے مال و جائیداد کو اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی سائل کے کسی بیٹے یا بیٹی کو اس جائیداد میں مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ " ہبہ اور گفٹ "کہلائےگا جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے ، وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دے کر، بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹے اور بیٹیوں ) میں برابر برابر تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہوجائے ، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی مالک بنا دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے ،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری یا ضرورتمندی وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے ۔
کمافی رد المحتار تحت: (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير "اتقوا الله واعدلوا في أولادكم" فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. اهـ (ج4، صـــ444، ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية اھ (ج4، صـــ391، ط:ماجدیۃ)۔
وفی خلاصۃ الفتاوی: رجل لہ ابن وبنت اراد ان یھب لھما شیئاً فالأفضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمدؒ وعند ابی یوسفؒ بینھما سواء ھوالمختار لورود الاٰثار (الی قولہ) ولو اعطی بعض ولدہ شیئاً دون البعض لزیادۃ رشدہ لابأس بہ وإن کانا سواء لاینبغی أن یفضل اھ (ج4، صـــ400، ط:رشیدیہ)۔
وفی الدرالمختار : ( و تتم الھبۃ بالقبض ) الکامل ( و لو وھب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 690 ط : سعید)۔