ہدیہ

زندگی میں تقسیم جائیداد کا طریقہ

فتوی نمبر :
74254
| تاریخ :
2024-07-02
معاملات / مالی معاوضات / ہدیہ

زندگی میں تقسیم جائیداد کا طریقہ

گزارش عرض یہ ہے کہ جناب ! میرا ایک بیٹا اور پانچ بیٹیاں ہیں، میرا ایک گھر ہے جسکی مالیت تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے، میں یہ چاہتا ہوں کہ اس مالیت سے%75بیٹے کو دوں، %15بیٹیوں میں اور اپنی زوجہ کو %15 دینا چاہتا ہوں ،اس فیصلے سے شرعی نقطۂ نظر سے میری رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہر شخص اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلا ہونے سے قبل اپنے تمام ذاتی مال و جائیداد کا تنہا مالک ہوتا ہے ، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کرسکتا ہے ، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ، اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اس میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے ، لہٰذا سائل پر بھی اپنے مال و جائیداد کو اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا لازم نہیں اور نہ ہی سائل کے کسی بیٹے یا بیٹی کو اس جائیداد میں مطالبہ کا حق حاصل ہے ، البتہ اگر سائل اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے درمیان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے ، مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں، بلکہ " ہبہ اور گفٹ "کہلائےگا جس کا بہتر اور مستحب طریقہ یہ ہے کہ سائل اپنی بقیہ زندگی کے لئے محتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے ، وہ رکھ کر اور اپنی بیوی کو جو کچھ دینا چاہے وہ دے کر، بقیہ مال و جائیداد اپنی اولاد ( بیٹے اور بیٹیوں ) میں برابر برابر تقسیم کرکے ہر فرد کو اس کے حصہ پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے، تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست ہوجائے ، محض کاغذات میں نام کردینا یا زبانی مالک بنا دینا کافی نہیں ، پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ اس ہبہ اور اعطاء میں سب کو برابر اور یکساں رکھے ،کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اس کی اولاد ہیں ، تاہم اگر کسی بیٹے ، بیٹی کی خدمت گزاری ، دینداری یا ضرورتمندی وغیرہ کی بناء پر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے تو شرعاً اس کی بھی اجازت ہے ، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بالکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ کی بات ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی رد المحتار تحت: (قوله كما حققه مفتي دمشق إلخ) أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه - صلى الله عليه وسلم - قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير "اتقوا الله واعدلوا في أولادكم" فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. اهـ (ج4، صـــ444، ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية اھ (ج4، صـــ391، ط:ماجدیۃ)۔
وفی خلاصۃ الفتاوی: رجل لہ ابن وبنت اراد ان یھب لھما شیئاً فالأفضل ان یجعل للذکر مثل حظ الانثیین عند محمدؒ وعند ابی یوسفؒ بینھما سواء ھوالمختار لورود الاٰثار (الی قولہ) ولو اعطی بعض ولدہ شیئاً دون البعض لزیادۃ رشدہ لابأس بہ وإن کانا سواء لاینبغی أن یفضل اھ (ج4، صـــ400، ط:رشیدیہ)۔
وفی الدرالمختار : ( و تتم الھبۃ بالقبض ) الکامل ( و لو وھب شاغلا لملک الواھب لا مشغولا بہ ) ( کتاب الھبۃ ج 5 ص 690 ط : سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 74254کی تصدیق کریں
0     637
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی کو ہدیہ یا گفٹ کرنے کا شرعی طریقہ

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   ہدیہ 1
  • کیا کسی ہندو کا تحفہ قبول کیا جاسکتا ہے ؟

    یونیکوڈ   اسکین   ہدیہ 0
  • کوئی چیز ہبہ کر کے واپس لینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • طلاق کے بعد شوہر کونسے گفٹ واپس لے سکتاہے؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا کسی ایک بیٹے کو ہدیہ دینا

    یونیکوڈ   ہدیہ 3
  • قبضہ دیے بغیر , فقط کاغذات میں مکان نام کرنے کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • ماں کے لئے اپنی اولاد میں سے کسی ایک بیٹے کو گھر ہدیہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بیٹے کو ہبہ کردہ مکان میں بیٹیوں کے حصہ کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • انٹرسٹ فری پراویڈنٹ فنڈ میں ملنےوالی اضافی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اپنی اولاد کے درمیان زندگی میں تقسیمِ جائیداد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد کا بیٹوں کو گھر ہدیہ کرنے کے بعد بیٹیوں کا اس میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • باپ کے لئے تمام اولاد کے ساتھ برابری کا معاملہ کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم اور طریقۂ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا طریقہ کار

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • کیا زندگی میں اپنے بہن بھائیوں اور ان کی اولاد میں جائیداد تقسیم کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • بیوی کے لیے شوہر کو ہدیہ کئے ہوئے سونے کا استعمال جائز ہے ؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • والد مرحوم کی جانب سے زندگی میں دی جانے والی چیز میں وراثت کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بڑے بیٹے نے ماں کے ساتھ رہتے ہوئے, ماں کے پلاٹ پر گھر تعمیر کیا

    یونیکوڈ   ہدیہ 1
  • قادیانی کمپنی کی تشہیری مہم میں شریک ہو کر گرانٹ وصول کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں تقسیم جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • بہن کے لئے بھائی سے والد کی طرف سے دی گئی جائیداد میں مطالبہ کرنا

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • مکان کی رقم اولاد کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی؟

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • زندگی میں اولاد کے درمیان تقسیمِ جائیداد کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
  • نکاح میں بیوی کو شوہر کی جانب سے دیے گئے تحفوں کا حکم

    یونیکوڈ   ہدیہ 0
Related Topics متعلقه موضوعات