کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ۔۔۔ کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی ہے ،اور یہ تینوں شادی شدہ ہیں ،ان میں سے ایک بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا کچھ سال پہلے ،اب جب انکی والدہ (۔۔۔) کا انتقال ہوگا تو اسکی وراثت ایک بیٹا اور بیٹی کو تو ملے گی ،لیکن سوال یہ ہے کہ جس بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا تو اب اسکی بیوی اور بچوں کو ۔۔کی وراثت ملے گی یا نہیں ،شریعت کی رو سے ۔برائے مہربانی مفصل و مدلل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ممنون و مشکور ہوں ۔
واضح ہو کہ والدین کی زندگی میں جس بیٹے یا بیٹی کا انتقال ہو جائے ، تو دیگر ورثاء کی موجود گی میں اسکی اولاد شرعاً مرحومین کے ترکہ میں حصہ دار نہیں ہوتی، لہذا صورت مسئولہ میں مرحومہ ۔۔۔ کے جس بیٹے کا انتقال مرحومہ کی زندگی میں ہوا تھا اسکی بیوہ اور اولاد شرعاً مرحومہ ۔۔۔کے ترکہ میں حصہ دار نہ ہوگی، البتہ اگر مرحومہ کے ورثاء عاقل بالغ ہوں اور اپنی مرضی سے مرحوم بھائی کی بیوہ اور بچوں کو کچھ دینا چاہیں تو ایسا کرنا بلا شبہ جائز بلکہ باعث اجر وثواب ہوگا ۔
قال اللہ تعالی: وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْـمَةَ اُولُو الْقُرْبٰى وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِيْنُ فَارْزُقُوْهُـمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَـهُـمْ قَوْلًا مَّعْـرُوْفًا (نساء۔آیۃ 8)۔
وفی رد المحتار: وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل الخ( ج 6 ص 758 ط: سعید)۔