السلام علیکم ! سلام کے بعد عرض ہے کہ دو دن سے AC کےouter کی وجہ سے مسئلہ چل رہا تھا ، مسئلہ یہ تھا کہ outer کی صفائی کا دو دن سے مجھے یہ بولتی رہی ہے کہ اس کی صفائی کروادو میں نے بولا تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے ؟ شہر میں کسی کا AC کام نہیں کررہا ہے ، تو پھر بولی کہ میں کسی اور سےouter کی صفائی کروا رہی ہو ، اگر AC دوبارہ چل گیا تو تم اس کمرے میں نہیں سوگے ، اگر سوئے تو تمہاری طرف سے مجھے طلاق ہے تو میں نے بھی بول دیا :"جاؤ طلاق ہے ، طلاق ہے ، طلاق ہے"،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق سائل نے بیوی کے ساتھ گفتگو اور بات چیت کے دوران جو الفاظ استعمال کئے کہ "جاؤ طلاق ہے،طلاق ہے،طلاق ہے"یہ بیوی کی باتوں کا جواب نہیں بلکہ مستقل کلام ہے ،لہذا مذکور الفاظ سے سائل کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی .
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد نکاح کرے چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دےگا تاکہ زوج اول کے لئے عورت حلال ہو جائے ، مکروہ تحریمی ہے ، اور اس پر احادث مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے ، لہذا اس طرح کرنے سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما قال اللہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيۡهِمَآ أَن يَتَرَاجَعَآ إِن ظَنَّآ أَن يُقِيمَا حُدُودَ ٱللَّهِۗ وَتِلۡكَ حُدُودُ ٱللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوۡمٖ يَعۡلَمُونَ الایۃ(بقرۃ۔آیۃ 230)۔
وفی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ (ج 3 ص 187)۔
وفی شرح المجلۃ:ذکر فی الاشباہ مسئلۃ: وھی قالت لزوجھا احلف علی فقال انت طالق ثلاثا ان اخذت ھذا الشیئ، فقال الزوج انت طالق ثلاثا ولم یزد،ھل یتضمن الجواب اعادۃ ما فی السوال فیکون تعلیقا او یکون منجزا؟فقال بل یکون تنجیزا الخ( ج 1 ص 179)۔
وفیہ ایضا:ثم ما تقدم اذا اعتبر ان الکلام الثانی جواب،فلو لم یکن جوابا، اعتبر مستقلا بنفسہ فلا یکون الکلام السابق معادا فیہ مثالہ علی قول الامام الاعظم: لو قالت طلقنی واحدۃ بالف فقال انت طالق ثلاثا، وقع الثلاث مجانا بغیر شیئ،وجھہ ان الثلاث لا تصلح جوابا للواحدۃ،فاذا قال ثلاثا فقد عدل عما سئلتہ فصار مبتدأ بالطلاق، فتقع الثلاث بغیر شیئ الخ(ج 1ص 178)۔