السلام علیکم! عید الاضحیٰ کی چھٹیوں کے دوران میرے آخری دورہ پاکستان کے دوران میں اور میری اہلیہ دونوں نشہ کی زد میں تھے اور ہم مسلسل 3 دن تک نشہ کرتے رہے اور اس دوران اس نے مجھے طلاق دینے کے لیے اکسایا اور وہ مسلسل جھگڑا کرتی رہی اور مجھے نوچتی رہی، اس معاملے پر لڑائی ہوئی تھی کیونکہ گزشتہ 8 مہینوں میں یہ تیسری بار تھا جب اس نے بالواسطہ طور پر طلاق کا مطالبہ کیا تھا، جس کی وجہ سے میں اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھا،بے خوابی اور منشیات کا مسلسل استعمال اور اس کے رویہ کی وجہ سے میرا کنٹرول ختم ہو گیا اور میں نے اسے 3 بار طلاق دی اور اس نے مزید یہ کہہ کر مجھے اکسایا کہ اس نے 1 بار نہیں سنا اور میں نے پھر غصے میں دو بار کہا اور میرے الفاظ" میں تجھے طلاق دیتا ہوں"۔تاہم میرا اسے چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، حالانکہ وہ پچھلے 8 ماہ سے اس کی کوشش کر رہی تھی کہ میں اسے چھوڑ دوں اب مسئلہ یہ ہے کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں، جس رات یہ ہوا ،ہم اکٹھے بیٹھے اور اس نے مجھے بتایا کہ تم اپنے ہوش میں نہیں تھے اور ایسا نہیں ہوا اور صبح ہم ساتھ ہی سو گئے، اور اس سے پہلے ہم ایک ساتھ سو رہے تھے، کیا میں فوری طور پر اس مسئلے پر رہنمائی حاصل کر سکتا ہوں؟
واضح ہو کہ نشہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نےاپنی بیوی کو نشہ کی حالت میں مذکور الفاظ "میں تجھےطلاق دیتا ہوں "تین مرتبہ کہے تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاق واقع ہو کرحرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ،تاکہ زوج اول کے لئے عورت حلال ہو جائے ، مکروہ تحریمی ہے ، اور اس پر احادث مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے ، لہذا اس طرح کرنے سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهٝ مِنْ بَعْدُ حَتّـٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهٝ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ الایۃ(بقرہ،آیۃ 230)۔
و فی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ (ج 3 ص 187)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله بنبيذ) أي سواء كان سكره من الخمر أو الأشربة الأربعة المحرمة أو غيرها من الأشربة المتخذة من الحبوب والعسل عند محمد. قال في الفتح: وبقوله يفتى لأن السكر من كل شراب محرم. وفي البحر عن البزازية المختار في زماننا لزوم الحد ووقوع الطلاق الخ(ج 3 ص 239)۔
وفی الھندیۃ: وطلاق السكران واقع إذا سكر من الخمر أو النبيذ. وهو مذهب أصحابنا رحمهم الله تعالى كذا في المحيط الخ( ج 1 ص 353)۔