بخدمت جناب مفتیان کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میں مسماۃ فلانہ بنت زید، ساکن محمدی کالونی یو سی 6 کیماڑی ٹاؤن کراچی، میری شادی عمرو سے تقریباً 20 سال پہلے ہوئی تھی، اور آج سے 3سال پہلے میرے شوہر بیمار پڑ گئے، میڈیسن استعمال کرتے رہے لیکن افاقہ نہیں ہوا، مزاج میں چڑچڑا پن آگیا، ہر بات پر مجھ سے لڑنے لگتے، آج بروز بدھ بتاریخ 3جولائی 2024 کو صبح میری میرے شوہر کے ساتھ لڑائی ہوگئی، اور میرے شوہر نے مجھے یہ الفاظ تین مرتبہ بولے ( زید کی بیٹی فلانہ کو طلاق ہے ) اس کے بعد مجھے یہ بولتے رہے کہ "تم آزاد ہو گھر چلی جاؤ" مذکورہ مسئلہ میں کتنی طلاقیں واقع ہونگی؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہرنے سائلہ کو لڑائی جھگڑے کے دوران تین بار مذکور الفاظ" زید کی بیٹی فلانہ کو طلاق ہے"کہہ دئیے ہوں، تو ان الفاظ کے کہنے سےسائلہ پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جس کے بعد بقیہ الفاظ طلاق کا محل نہ ہونے کی وجہ سےلغو ہوگئی ہیں،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے، جبکہ سائلہ ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج الخ (ج1 صـ355 کتاب الطلاق الباب الثانی الفصل الاول ط: دارالفکر).
وفیھا ایضاً: [فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به] إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز الخ (ج1 صـ471-472 کتاب الطلاق ط: ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ (ج3 صـ187 کتاب الطلاق ط: ایچ ایم سعید)۔