میری بیوی نے یو کے میں شریعہ کونسل میں خلع فسخ کی درخواست دی، اور میں نے اس پر دستخط کئے ، جس پر مذکور تھا کہ "میں اپنے ہوش و حواس میں اپنی بیوی کوایک طلاقِ بائن دے چکا ہوں " اب ہمارے درمیان ایک طلاق بائن ہو چکی ہے ، اب شادی کو قانونی طور پر ختم کرنے کے لئے مجھے یو کے کی عدالتوں سے طلاق کے لئے درخواست دینی ہوگی ، کیونکہ شریعہ کونسل صرف مذہبی عدالت ہے اور یو کے میں اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ میں صرف شادی کو قانونی طور پر ختم کرنے کے لئے طلاق کے لئے درخواست دے رہا ہوں، تو کیا یو کے کی عدالت سے ہونے والی یہ طلاق دوسری طلاق شمار ہوگی؟ قانونی طلاق اور خلع فسخ کے بعد بیوی سے مصالحت کا کیا حکم ہے؟ خلع فسخ کے ذریعہ ایک طلاق بائن اور قانونی طلاق کے بعد کتنی طلاقیں شمار ہوں گی؟نوٹ : بذریعہ فون معلوم ہوا کہ سائل کی بیوی کی عدت مکمل ہو چکی ہے ۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دینے کے بعد جب بیوی کی عدت گزر چکی ہے، تو عدت گزرنے کے بعد چونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن چکے ہیں ، لہذا اب سائل کا قانونی کاروائی مکمل کرنے کے لئے طلاق نامہ بنوانے سے اس پر مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، جبکہ کسی وقت یہ دونوں باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں ،تو گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کرکے تجدید نکاح کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ اس صورت میں سائل کو آئندہ کے لئے فقط دو طلاق کا اختیار ہوگا ۔
كما في بدائع الصنائع : وأما الذي يرجع إلى المرأة فمنها الملك أو علقة من علائقه؛ فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك (فصل في شرائط ركن الطلاق وبعضها يرجع إلى المرأة، ج 3، ص 126، ط : دار الكتب العلمية)-
وفيھا أيضا : وأما حكم الطلاق البائن فالطلاق البائن نوعان : أحدهما الطلقات، والثاني الطلقة الواحدة البائنة، (إلى قوله) و زوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره ، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية. (فصل في حكم الطلاق البائن ، ج 3، ص 187، ط : دار الكتب العلمية)-
وفي البحر الرائق : (قوله وينكح مبانته في العدة، وبعدها) أي المبانة بما دون الثلاث لأن المحلية باقية لأن زوالها معلق بالطلقة الثالثة فينعدم قبلها، ومنع الغير في العدة لاشتباه النسب الخ (فصل فيما تحل به المطلقة، ج 4، ص 61، ط : دار الكتاب الإسلامي)-
و في المبسوط للسرخسي : ولو تزوجها قبل التزوج، أو قبل إصابة الزوج الثاني، كانت عنده بما بقي من التطليقات الخ ( باب من الطلاق، ج 6، ص 95، ط : دار المعرفة، بيروت)-
و في الفتاوى الهندية : (و أما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. (الباب الأول في تفسير الطلاق وركنه وشرطه وحكمه ووصفه وتقسيمه، ج 2، ص 191، ط : رشيدية)-
و فيها أيضا : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو الخ (الفصل السادس في الطلاق بالكتابة، ج 2، ص 255، ط : رشيدية)-