کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی...ولد ۔۔۔ کا نکاح مسماۃ۔۔۔ ولد۔۔۔سے آج سے سات ماہ قبل ہو گیا تھا ، لیکن شادی کے بعد مسلسل گھریلو ناچاقی اور ہم آہنگی نہ ہونے کی بنا ء پر میں نےاپنی بیوی کو تقریباً نو دفعہ طلاق دی ، الفاظ طلاق یہ تھے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "پھر ان کے گھروالوں کو دودن بعد ان کے سامنے کہا کہ میں اسے طلاق دیتا ہوں ، اور یہ ان کے سامنے آٹھ نو مرتبہ کہا ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہو ئیں اور اب ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "نو دفعہ کہہ دئیے تو اس سے اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ،جبکہ بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، اب رجوع نہیں ہو سکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے شخص سے اپنا عقد نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر اس کا پہلے انتقال ہو جائے تو بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر پر شرعی گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا تاکہ زوج اول کے لئے عورت حلال ہو جائے ، مکروہ تحریمی ہے ، اور اس پر احادث مبارکہ میں وعید وارد ہوئی ہے ، لہذا اس طرح کرنے سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
قال اللہ تعالی: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَـهٝ مِنْ بَعْدُ حَتّـٰى تَنْكِـحَ زَوْجًا غَيْـرَهٝ ۗ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَآ اَنْ يَّتَـرَاجَعَآ اِنْ ظَنَّـآ اَنْ يُّقِيْمَا حُدُوْدَ اللّـٰهِ ۗ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّـٰهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ الایۃ(بقرہ۔آیۃ 230)۔
و فی بدائع الصنائع: واما الطلقات الثلاث فحکمھا الاصلی ھو زوال الملک وزوال المحلیۃ ایضا ، حتی لا یجوز لہ نکاحھا قبل التزوج بزوج آخر الخ (فصل۔حکم الطلاق الثلاث ۔ج 3 ص 187)۔