السلام علیکم!
میں نے کچھ دن قبل اپنی بیوی کو ایک ہی موقع پر اکھٹی پانچ طلاقیں دیدیں تھیں، جبکہ وہ چار ماہ سے حاملہ بھی ہیں، ابھی ہم دونوں رجوع کرنا چاہتے ہیں، میرا شرعی مسئلہ واضح کریں؟
نوٹ: الفاظ طلاق یہ تھے" تہ پہ ما طلاقہ ئے، طلاقہ ئے، طلاقہ ئے"۔۔۔۔یہ الفاظ پانچ مرتبہ بولے ہیں، یعنی "تم مجھ پر طلاق ہو، طلاق ہو، طلاق ہو"۔۔۔ اور دوسری بات عورت کے حق کا کیا حکم ہے جوکہ میں ادا کرچکا ہوں، عدت کا خرچہ اور جو آٹھ ماہ کا بچہ ہے اسکا خرچہ کب تک میرے ذمہ رہے گا، اور کب میں اپنے بچوں کو واپس لاسکتاہوں؟پوری تفصیل تحریر فرمائیں۔
واضح ہوکہ حالتِ حمل میں بھی طلاق دینے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے،لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کو سوال میں مذکور الفاظ"تہ پہ ما طلاقہ ئے،طلاقہ ئے، طلاقہ ئے۔۔۔الخ" یعنی " تم مجھ پر طلاق ہو، طلاق ہو، طلاق ہو۔۔۔الخ"پانچ مرتبہ کہہ دیے،تواس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اور بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہیں، چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کےبغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذادونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں،اورمیاں بیوی والا تعلق ہرگزقائم نہ کریں،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہونگے،نیز عورت ایام عدت (جوکہ صورت مسئولہ میں وضع حمل ہے)گزارنے کے بعد اپنی مرضی سےدوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے،اور اس عدت کے دوران بیوی کے نان ونفقہ کی ذمہ داری بھی سائل پر عائد ہوگی، البتہ سائل اگر بیوی کو اس کا حق مہر مکمل طور پر ادا کرچکاہو، تو ادا کردہ مہر کی ادائیگی سائل پر دوبارہ لازم نہ ہوگی۔
اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت ایامِ عدت گزارنےکےبعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےشخص سےاپناعقدِنکاح کرے،چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری(جوکہ حلالۂ شرعیہ کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیاازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدےیاطلاق تونہ دے،مگراس کا بیوی سےپہلےانتقال ہوجائے،توبہرصورت اسکی عدت گزارنےکےبعداگروہ پہلےشوہرکےنکاح میں آناچاہےاورپہلاشوہربھی اسےرکھنےپررضامندہو،تونئےحق مہرکےتقررکےساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتےہیں،تاہم حلالہ اس شرط کیساتھ کرناکہ زوج ِثانی ہمبستری کےبعدبیوی کوطلاق دیگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کےساتھ عقدِِنکاح کرے ,یہ مکروہِ تحریمی ہے،اوراس پرحدیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذایسےحلالہ سےاحتراز لازم ہے،البتہ بلاشرط ایساکرنا بلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
جبکہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجانے کی صورت میں بچے کی عمر سات سال اور بچی کی عمر نو سال ہوجانےتک ان کی پرورش کی زیادہ حقدار انکی ماں ہوا کرتی ہے، بشرطیکہ وہ اس دوران بچی/بچے کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرلے، لہذا مذکور بچہ کی عمر سات سال ہونے تک ماں ہی اس کی پرورش کی زیادہ حقدار ہے، بشرطیکہ وہ بچہ کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی نہ کرلے، البتہ سات سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد سائل بچے کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتاہے،اور اس دوران بچہ کی پرورش پر آنے والے تمام تر اخراجات سائل پر اس کی وسعت کے مطابق لازم ہوں گے۔
کما قال اللہ تعالٰی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (230)سورۃ البقرۃ)۔
وایضاً قال عزوجل: وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ يُسْرًا (4)سورۃ الطلاق)۔
وایضاً قال سبحانہ: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ فَإِنْ أَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (233)سورۃ البقرۃ)۔
وفی احکام القرآن للجصاص: كذلك حكمه في سائر ما يلزمه من نفقة الأولاد الصغار والكبار الزمنى يختص هو بإيجابه عليه دون مشاركة غيره فيه لدلالة الآية عليه وقوله تعالى رزقهن وكسوتهن بالمعروف يقتضي وجوب النفقة والكسوة لها في حال الزوجية لشمول الآية لسائر الوالدات من الزوجات والمطلقات وقوله تعالى بالمعروف يدل على أن الواجب من النفقة والكسوة هو على قدر حال الرجل في إعساره ويساره الخ (ج2 صـ105 ط: دار إحياء التراث العربي)۔
وفی الھندیۃ: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج الخ (ج1 صـ355 کتاب الطلاق الفصل الاول ط: دار الفکر)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ ( ج3ص 187 فصل وأما حکم البائن ط سعید)۔
وفی الدر المختار: (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ولو اختلفا في حيضها فالقول للأم بحر بحثا الخ (ج3 صـ566 باب الحضانۃ ط: سعید)۔