السلام علیکم !
گزارش عرض ہے میری شادی کو 17 سال ہو گئے ہیں اور اس دوران میں نے اپنی بیوی کو متعدد بار طلاقیں دی ہیں، تفصیل۔ 2013 میں کہا “میں تمہیں آزاد کرتا ہوں” (جھگڑے کے دوران غصے میں )۔ 2018 میں کہا” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “(دو دفعہ )۔ پھر کچھ عرصے کے بعد کہا-“ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں”۔ پھر کچھ عرصے کے بعد کہا”۔ میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں 2020 میں ہم نے فتوی لیا جس میں کہا گیا کہ آپ کا نکاح ختم ہو چکا ہے اور آپ دوبارہ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں لہذا ہم نے دوبارہ نکاح کیا- جولائی ۲۰۲۳ میں پھر جھگڑا ہوا تو میں نے کہا کہ “اگر تم میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو میں تمہیں طلاق دیتا ہوں “(ایک دفعہ) جبکہ زوجہ کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ “تم میرے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتی تو ٹھیک ہے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں , لیکن زوجہ بضد تھی کہ انہوں نے اپنے کانوں سے سنا ہے کہ میں نے انہیں دو دفعہ طلاق دی ہے ۔۔ دسمبر 2023 میں پھر ہمارا جھگڑا ہوا جس پر میں نے ان کو باقاعدہ تحریری طور پر طلاق دی وہ تحریر یہ ہے “جولائی 2023 میں میری اپنی زوجہ سے لڑائی ہوئی جس کے نتیجے میں کچھ جملے ادا کیے گئے جس پر فتوی لیا گیا تو فتوے کے بقول کوئی طلاق نہیں ہوئی( اگر شوہر قسم اٹھا لے )مگر کیونکہ میری زوجہ کو تسلی نہیں مل رہی، لہذا میں اپنی زوجہ کو مطمئن کرنے کے لیے ان کے بیان کی روشنی میں ان کو طلاق دیتا ہوں ،نیز جولائی 2023 سے لے کر آج دسمبر 2023 تک عدت بھی مکمل ہو چکی ہے اور یہ حلالہ کرنے میں آزاد ہیں - اس تحریری طلاق کے بعد میری زوجہ مجھ سے شدید ترین ناراض ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اب ہماری باقاعدہ طلاق ہو چکی ہے اور اب میں ان کے لئے نامحرم ہوں ،لہذا اب وہ کسی قیمت پر بھی میرے ساتھ رہنے کو تیار نہیں، کہتی ہے کہ اب مجھے باقاعدہ طلاق نامہ بنا کر دو، ورنہ میں کورٹ سے جا کر خلع لے لوں گی کیونکہ میں ایک ایسے شخص کے ساتھ نہیں رہ سکتی جو اٹھتے بیٹھتے طلاق دیتا ہو , ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ فرض کریں کہ ابھی ہماری باقاعدہ تین طلاقیں نہیں ہوئی ہیں، تب بھی میں آپ کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں کیونکہ آپ کا کوئی بھروسہ نہیں کہ کب مجھے تینوں طلاقیں دے کر فارغ کر دیں، لہذا ایسی ٹینشن بھری زندگی گزارنے سے بہتر ہےکہ میں خود عدالت سے خلع لے لوں،سوال : کیا ہماری طلاق ہو چکی ہے ؟ اگر نہیں تو میری زوجہ جو کورٹ سے خلع لینے پر تلی ہوئی ہے تو کیا یہ خلع اس کے لئے شرعا جائز ہوگی ؟۔ براہ مہربانی جواب عنایت فرمائیں شکریہ ،
واضح رہے کہ جولائی 2023 میں جھگڑے کے دوران جو میں نے طلاق کے الفاظ کہے، اس پر میں نے قسم اٹھا لی تھی اللہ کو حاضر ناظر جان کر , جولائی 2023 کے جھگڑے کے بعد میں نے دو دفعہ غصے میں ان کو یہ بھی کہاکہ “بس اب تو چلی جا میری طرف سے، آج کے بعد میں تجھے چھؤوں گا تک نہیں”- (دو دفعہ)
سائل نے جب 2013 میں لڑائی جھگڑے کے دوران بیوی کو مذکور الفاظ "میں تمہیں آزاد کرتا ہوں" کہے تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی اگر دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا تو اس سے رجوع بھی درست ہوکر دونوں کا نکاح بدستور برقرار تھا، البتہ پھر 2018 میں جب سائل نے مذکور جملہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" مزید دو دفعہ کہا تو مجموعی طور پر تینوں طلاقیں واقع حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اور بقیہ طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکی ہیں ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہو سکتا لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور اب تک تین طلاقوں کے بعد جتنا عرصہ میاں بیوی کی طرح ایک ساتھ رہے ہیں ، دونوں سخت گناہ گار ہوئے ہیں ، جس پر بصدقِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کیلئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز تعلقات قائم کرنے سے اجتناب لازم ہے ۔
کما فی ردالمحتار تحت: (قوله حرام) (الی قولہ) فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، و ما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق و قد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت ، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب و الفرس وقع به البائن و لو لا ذلك لوقع به الرجعي . اھ (3/299)۔
وفی الھندیۃ : و ان کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا کذا فی الھدایۃ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ، ج 1 ، ص 473 ، ط : ماجدیہ )۔