میری شادی کچھ عرصہ قبل ہوئی، شروع دن سے ہی میری بیوی کا رویہ ٹھیک نہ رہا، اپنے والد اور چچاؤں کو میرے بھائیوں کے خلاف غلط بیانی کرتے ہوئے اکسایا جاتا رہا، جس کی بناء پر میرا سسر ، میری والدہ اور میری ہمشیرگان کے خلاف گندی زبان اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرتا رہا، جس کی بناء پر سسر اور داماد آپس میں دست و گریبان ہوئے، شبِ براءت والے دن بچے کو کھلانے کے معاملہ پر میری بیوی نے میرے ساتھ بد تمیزی کی اور ماں بہنوں کو گالی دینا شروع کردی، جس پر مجھ کو غصہ آیا، حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اپنے شرعی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ " بیوی کو اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں، تین بار طلاق ، طلاق، طلاق دیتا ہوں، میری بیوی بعد از عدت عقدِ ثانی کرسکتی ہے "
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو تین بار مذکور الفاظ " طلاق ، طلاق، طلاق دیتا ہوں" کہہ دیے ، تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہٰذا دونوں میا ں بیوی پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ( سورۃ البقرۃ)۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج ۱ ص ۳۵۵ ط: ماجدیہ)۔
و فیہ ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج ۱ ص ۴۷۳ ط: ماجدیہ) ۔