میں نے سنا ہے کہ اسلام وظائف (اوراد) کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس کی اجازت دیتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ حاجت کے علاوہ کوئی وظیفہ نہیں بتایا، میں یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا کسی جائز کام کے لئے وظیفہ کیا جا سکتا ہے؟
ایسا وظیفہ جو کسی جائز مقصد کے لئے ہو اور اس کے ذریعہ کسی دوسرے کو تکلیف پہنچانا مقصود نہ ہو، بلا شبہ جائز اور احادیثِ مبارکہ سے ثابت بھی ہے۔
کما في رد المحتار: ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فیها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث فی عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، اھ (6/ 363)