اگر میری بیوی مجھے طلاق دینے پر مجبور کر رہی ہے تو کیا یہ میرے لیے گناہ ہوگا اگر میں مان جاؤں اور اسے طلاق دے دوں؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ اسکی بیوی سائل کو طلاق دینے پر کیو ں مجبور کر رہی ہے ؟ تاکہ اسکے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر سائل کی بیوی بغیر کسی عذر کے طلاق کا مطالبہ کر رہی ہو تو اس کا یہ عمل شرعاً جائز نہیں، بلکہ اس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہی ہے، اس کو اپنے اس ناجائز مطالبہ سے باز آکر اپنے گھر کو بسانے کی فکر کرنی چاہیے۔ تاہم اگر ہر ممکن کوشش اور خاندان کے سمجھانے کے با وجود وہ اس مطالبہ پر مصر ہو اور آپس کے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے حدود اللہ پر رہتے ہوئے اس رشتہ کو بر قرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل بیوی کو ایک طلاق رجعی دیکر اپنی زوجیت سے الگ کر سکتا ہے، اور اس صورت میں سائل گنہگار بھی نہ ہوگا۔
کما قا ل اللہ تعالی: فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (البقرۃ، الآیۃ: 229)
وفی السنن لأبی داؤد: عن ابنِ عُمَرَ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "أَبغَضُ الحَلَالِ إلى اللهِ عز وجل الطَّلَاقُ اھ (باب في كراهية الطلاق، رقم 2178، ج3، ص 505، ط: دار الرسالۃ)۔
وفیہ ایضاً : عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِفَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ (فصل فی الخلع، رقم 2226، ج3، ص 543، ط: دار الرسالۃ)۔
وفی ردالمحتار: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيفیه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح، فحيث تجرد عن الحاجة المبيحة له شرعا يبقى على أصله من الحظر، ولهذا قال تعالى {فإن أطعنكم فلا تبغوا عليهن سبيلا} [النساء: 34] أي لا تطلبوا الفراق، وعليه حديث «أبغض الحلال إلى الله الطلاق» قال في الفتح: ويحمل لفظ المباح على ما أبيح في بعض الأوقات أعني أوقات تحقق الحاجة المبيحة اهـ (کتاب الطلاق، 3، ص 228، ط: سعید)۔
وفیہ ایضاً : (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اهـ. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب الخ (باب الخلع، ج3، ص441، ط: سعید)۔
وفی الہندیۃ: (وأما حكمه) فوقوع الفرقة بانقضاء العدة في الرجعي وبدونه في البائن كذا في فتح القدير. وزوال حل المناكحة متى تم ثلاثا كذا في محيط السرخسي.(ج1، ص 348، ط: ماجدیۃ)۔