السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! استاد محترم ایک مسئلہ پوچھنا تھا، ایک بندہ اپنی بیوی سے یہ کہے کہ تجھے طلاق ہے ایک دو تین طلاق کا لفظ ایک مرتبہ کہا اور باقی گنتی میں 123 کہا ہے، اس سے طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟ کتنی طلاق شمار ہوں گی؟
وا ضح ہوکہ ایک، دو، تین، عدد ہیں ،اور گنتی کے لئے و ضع ہیں ،نہ کہ طلاق کے لئے،اس لئے اگر کوئی شخص فقط یہی گنتی کے عدد استعمال کرے ،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،لیکن اگر ان اعدادکے ساتھ لفظِ طلاق بھی ذکر کر دیا جائے ،تو عرفاً ان اعداد سے مراد بھی طلاق ہوتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر شوہر نے اسی غرض سے بیوی کو مذکور الفاظ کہے ہوں، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے ، ، چنانچہ اب اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصے بعد طلاق دیدے ، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے ، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوجِ ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوجِ اول کے لئے عورت دوبارہ حلال ہو جائے ،مکروہِ تحریمی ہے ، اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ، البتہ بغیر شرط ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی الہندیہ : و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية الخ(473/1 فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به کتاب الطلاق ط ماجدیہ)۔
و فی در المختار:( و الطلاق يقع بعدد قرن به لا به) نفسه عن ذكر العدد، و عند عدمه الوقوع بالصيغة.اھ(3/287 باب طلاق غير المدخول بها کتاب الطلاق ط سعید)۔
و فی رد المختار : تحت (قوله وإن نوى خلافا)و علم مما ذكرنا أنه لو قرنه بالعدد ابتداء فقال: أنت طالق ثنتين، أو قال ثلاثا يقع لما سيأتي في الباب الآتي أنه متى قرن بالعدد كان الوقوع به اھ(3/250 باب طلاق غير المدخول بها کتاب الطلاق ط سعید)۔